Education
برطانیہ میں بہترین اپرینٹس شپ: بغیر ڈگری اعلیٰ تنخواہ والے کیریئرز
برطانیہ میں روایتی یونیورسٹی ڈگریوں کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ اور قرضوں کے تناظر میں متبادل اور بہترین اپرینٹس شپ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان پروگرامز کے ذریعے نوجوان بغیر ڈگری حاصل کیے اعلیٰ تنخواہ والے روزگار اور پیشہ ورانہ کیریئر کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔
یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی فیسوں اور طلبا پر قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافے کے بعد اب نوجوانوں کے لیے ایک بہترین متبادل سامنے آ گیا ہے۔ برطانیہ میں ایسے اپرینٹس شپ پروگرامز کی نقاب کشائی کی گئی ہے جو روایتی یونیورسٹی کی ڈگری کے بغیر ہی نوجوانوں کو اعلیٰ تنخواہ والے اور باوقار کیریئر کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ دور میں بہت سے طلبا اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا یونیورسٹی جانا ان کے مستقبل کے لیے بہترین فیصلہ ہے یا نہیں۔ اس پس منظر میں یہ اپرینٹس شپ پروگرامز ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن کر ابھرے ہیں۔
نئے جاری کردہ اعداد و شمار اور رپورٹس کے مطابق، ان اپرینٹس شپ پروگرامز میں فنانس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور بزنس مینجمنٹ جیسے شعبے سر فہرست ہیں۔ ان پروگرامز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں اور انہیں باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ یونیورسٹی کے بھاری قرضوں کے بوجھ سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے مالی مستقبل کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کمپنیاں بھی اب ایسی صلاحیتوں کو ترجیح دے رہی ہیں جو عملی میدان میں کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہوں۔
امیدواروں کے لیے ان پروگرامز میں اپلائی کرنے کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے نوجوان متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کی ویب سائٹس کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف بے روزگاری پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ نوجوانوں کو عملی زندگی میں جلد مستحکم ہونے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔