LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی قومی تحویل پر بحث

News Image
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی کے حوالے سے ایک نئے مضمون میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر کارپوریٹ منڈیوں نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے اداروں کو قبول کرنے سے انکار کیا، تو امریکی حکومت کو ان کی قومی تحویل کا آپشن اپنانا چاہیے۔ یہ مضمون گارڈین میں شائع ہونے والے ایک تبصرے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنیوں جیسے کہ اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) کے حوالے سے حال ہی میں ایک اہم بحث کا آغاز ہوا ہے۔ اصل میں ان اداروں کی بنیاد ایسے اے آئی ڈویلپرز نے رکھی تھی جو غیر ذمہ دارانہ کارپوریٹ مسابقت اور گوگل و میٹا جیسی بڑی کمپنیوں کے مبینہ خطرناک اقدامات سے خائف تھے۔ ان کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ٹیکنالوجی انسانیت کے مفاد میں محفوظ انداز میں ترقی کرے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ان کمپنیوں کو مالی اعانت، کمپیوٹنگ پاور اور تجارتی دباؤ کی وجہ سے بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ جب یہ ادارے اپنے کاروباری ماڈلز اور فنڈنگ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو منڈیوں اور سرمایہ کاروں کا ردعمل اہم موڑ اختیار کر جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مالیاتی مارکیٹس یا نجی سرمایہ کار ان کمپنیوں کو مناسب تعاون فراہم کرنے سے انکار کرتے ہیں یا یہ کمپنیاں اپنے ابتدائی نظریات سے ہٹ جاتی ہیں، تو ایک اور سنجیدہ متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی حکومت ان اہم ترین تحقیقی اداروں کو اپنی قومی تحویل میں لے لے۔ قومی تحویل میں لینے کا یہ نظریہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ مصنوعی جیسی طاقتور ترین ٹیکنالوجی چند نجی کاروباری اداروں کے منافع کی ہوس یا منڈی کے اتار چڑھاؤ کا شکار نہ ہو۔ اے آئی کی سلامتی اور اس کے معاشرتی اثرات اتنے وسیع ہیں کہ اسے صرف تجارتی بنیادوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگرچہ اس تجویز پر حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، لیکن یہ بحث اب ٹیکنالوجی کی دنیا کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔