LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز تنازع: ایران کا امریکی دعوے پر دوٹوک جواب اور تازہ ترین صورتحال

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس گزرگاہ کو کھولنا یا بند کرنا صرف ایران کے حکم پر منحصر ہے۔ دوسری جانب خطے میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر کے حالیہ دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ کو کھولنے یا بند کرنے کا مکمل اختیار صرف اور صرف ایران کے پاس ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس خطے میں کسی بھی بیرونی طاقت کی اجارہ داری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور تہران اپنے سمندری حدود کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی اور بحری راستوں پر شدید دباؤ پایا جا رہا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران خطے میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس نے سکیورٹی خدات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے قریب جہاز رانی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثرات پڑ رہے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے اس بحری راستے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران اب بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز ہو چکا ہے کہ اقتصادی دباؤ کے اس ماحول میں کون پہلے قدم پیچھے ہٹاتا ہے۔ امریکی قیادت نے جہاں ایک طرف عوام کو بلند ایندھن کی قیمتیں برداشت کرنے کی تلقین کی ہے، وہیں ایرانی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت یا دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم ترین راستہ ہے، اور یہاں جاری کشیدگی عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بنتی جا رہی ہے۔