World
امریکی بحریہ کا تنازع اور ایران جنگ کے خدشات
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات عملے کی طویل عرصے تک سمندر میں موجودگی پر کانگریس میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی دباؤ پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ اور خدشات کی ایک واضح علامت بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس جہاز پر تعینات عملے کو مسلسل نو مہینے تک سمندر میں گزارنا پڑے ہیں، جس کی وجہ سے فوجیوں کے اہل خانہ اور امریکی کانگریس میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال پر فوجی خاندانوں اور قائم مقام نیوی سیکرٹری کے درمیان ہونے والی ایک ہنگامہ خیز ملاقات میں بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس طویل ترین تعیناتی کے دوران عملے کو شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہاں تک کہ کچھ ملاحوں کی جانب سے جہاز سے سمندر میں کودنے کی کوششوں کے افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد واشنگٹن میں پالیسی ساز حلقوں اور دفاعی ماہرین کی طرف سے شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا امریکی بحریہ کو اس طرح کے طویل اور غیر معینہ مشنز پر حد سے زیادہ تو نہیں جھونکا جا رہا۔
ان تمام تر اندرونی مشکلات اور دباؤ کے باوجود، وال اسٹریٹ جنرل کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگ کے تناؤ کے پیش نظر خطے میں ایک اور تازہ دم طیارہ بردار بحری جہاز روانہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، چاہے اس کے لیے امریکی بحریہ کے عملے کو کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانا پڑے۔
اس پوری صورتحال نے امریکہ کے اندر ایک نئے سیاسی اور سماجی مباحثے کو جنم دے دیا ہے جہاں ایک طرف قومی سلامتی اور ایران کے خلاف توازن برقرار رکھنے کی بات کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف فوجیوں کے انسانی حقوق اور ان کی ذہنی صحت پر بھی سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے ارکان اس معاملے پر پینٹاگون سے کڑے جوابات طلب کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں فوجیوں کو اس قسم کے غیر ضروری انسانی اور تنظیمی بحرانوں کا سامنا نہ کرناپڑے۔