AI
سیکنڈ ہینڈ کتابوں کی بڑھتی مانگ اور مصنوعی ذہانت کا کردار
کتابوں کے تاجروں کو بڑی تعداد میں پراسرار بلک آرڈر موصول ہو رہے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام کتابوں کو بالآخر ری سائیکلنگ کے لیے پلپ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں سیکنڈ ہینڈ کتابوں کی مارکیٹ میں ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے روایتی کتاب فروشوں کو بھی الجھن میں ڈال دیا ہے۔ کتابوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں ایسے پراسرار بلک آرڈرز موصول ہو رہے ہیں جو عام قاری کی خریداری سے بالکل مختلف ہیں۔ ان بڑی کھیپوں کی خریداری کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، اس حوالے سے اب ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کی طرف سے تشویشناک انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ تمام کتابیں دراصل مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے نئے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اے آئی کمپنیاں اپنے بڑے لینگویج ماڈلز کو مزید طاقتور اور بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تحریری مواد کی تلاش میں ہیں، اور پرانی کتابیں اس مقصد کے لیے سب سے سستا اور آسان ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ سے سستی کتابیں بڑی مقدار میں خریدی جا رہی ہیں تاکہ ان کے متن کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کیا جا سکے۔
تاہم، اس تمام عمل کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ مطالعے کے لیے خریدی جانے والی یہ قیمتی کتابیں پڑھنے کے بعد محفوظ نہیں رکھی جاتیں۔ ذرائع کے مطابق، اے آئی کی تربیت اور اسکیننگ کے عمل سے گزرنے کے بعد ان کتابوں کا انجام انتہائی افسوسناک ہوتا ہے اور انہیں بالآخر ری سائیکلنگ کے لیے پلپ یعنی گودے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ کتابوں سے محبت کرنے والوں اور ادبی حلقوں کی طرف سے اس عمل پر گہرے دکھ اور تنقید کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نایاب اور روایتی لٹریچر کا بڑا ذخیرہ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو رہا ہے۔
مستقبل میں اس رجحان کے کتابوں کی صنعت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ جہاں ایک طرف اے آئی کی ترقی کے لیے یہ ڈیٹا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف پرانی کتابوں کا اس طرح پلپ بن جانا ثقافتی اور علمی ورثے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ کتاب فروشوں کو اس صورتحال میں دوغلی کیفیت کا سامنا ہے کیونکہ ایک طرف انہیں کاروبار میں زبردست منافع مل رہا ہے تو دوسری طرف کتابوں کی اس بے قدری پر انہیں شدید تشویش بھی ہے۔