LIVE
Loading Breaking News...

تائیوان کے گرد چینی ناکہ بندی کا خطرہ اور نئے عالمی چیلنجز

News Image
تائیوان طویل عرصے سے چینی فوجی حملے کی تیاری کر رہا ہے لیکن ایران اور یوکرین کی جنگوں نے نئے ممکنہ خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔
تائیوان طویل عرصے سے کسی بھی چینی فوجی حملے یا جارحیت کے خلاف دفاعی تیاریاں کر رہا ہے، تاہم دنیا بھر میں جاری حالیہ تنازعات نے سکیورٹی کے نئے اور پیچیدہ خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں ہونے والی جنگوں نے عسکری ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ روایتی حملوں کے علاوہ معاشی محاصرے اور سپلائی لائنز کی کٹائی کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر چین نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی کی طرز پر تائیوان کے گرد سمندری راستوں کی ناکہ بندی کی، تو اس کے عالمی معیشت اور خطے کے امن پر انتہائی شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ حالیہ برسوں میں چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بیجینگ تائیوان کو اپنے الگ ہونے والے صوبے کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے مرکزی حکومت کے ساتھ ملانے کے لیے ہر ممکن آپشن پر غور کر رہا ہے۔ روایتی فوجی حملے کے خطرے کے ساتھ ساتھ اب بحری ناکہ بندی اور مواصلاتی ذرائع کو منقطع کرنے کی حکمت عملی پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل کے اہم راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے دنیا بھر کے عسکری منصوبہ سازوں کو چوکنا کر دیا ہے، اور اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیجینگ بھی تائیوان کی عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو روکنے کے لیے اسی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر سکتا ہے۔ تائیوان کی حکومت اور اس کے حامی ممالک، بشمول امریکہ، اس قسم کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ جزیرہ نما تائیوان اپنی خوراک اور توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سمندری راستوں کی بندش کے خلاف انتہائی حساس ہے۔ اگر چین کی بحریہ تائیوان کے گرد ایک مؤثر ناکہ بندی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس سے نہ صرف تائیوان کی اندرونی معیشت مفلوج ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کا سلسلہ شدید طور پر متاثر ہوگا۔ عالمی سطح پر دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں نے جدید جنگی طریقوں اور سپلائی چین کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں تائیوان کو درپیش خطرات صرف زمینی یا فضائی حملے تک محدود نہیں رہے، بلکہ ہائبرڈ وارفیئر اور سمندری ناکہ بندی جیسے خطرات زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں خطے کا امن اس بات پر منحصر ہوگا کہ تائیوان اور اس کے اتحادی اس نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔