LIVE
Loading Breaking News...

جاپانی وزیر دفاع کا یاسوکونی مزار کا دورہ اور چین کی سخت ردعمل

News Image
جاپانی وزیر دفاع نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی اکیاسویں برسی کے موقع پر متنازع یاسوکونی مزار کا دورہ کیا۔ اس قدم پر چین اور جنوبی کوریا نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے خلاف قرار دیا ہے۔
ٹوکیو: جاپانی وزیر دفاع کے متنازع یاسوکونی مزار کے دورے نے ایک بار پھر خطے میں سفارتی کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان دوسری جنگ عظیم میں اپنے ہتھیار ڈالنے کی اکیاسویں برسی منا رہا تھا۔ یاسوکونی مزار کو جاپان کی عسکری تاریخ اور جنگی ہیروز سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم ایشیائی ممالک بالخصوص چین اور جنوبی کوریا اسے جاپان کی ماضی کی جنگی جارحیت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وزیر دفاع کے اس اقدام کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کی طرف سے شدید سفارتی ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے خطے کے امن و استحکام کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ چین اور جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے اس دورے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات جنگ کے دوران متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کے زخموں کو تازہ کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کا موقف ہے کہ جاپانی قیادت کو اپنے ماضی کی جنگی تاریخ کے حوالے سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو علاقائی کشیدگی کا باعث بنیں۔ ماضی میں بھی جاپانی وزراء اور اعلیٰ حکام کی جانب سے اس مزار کے دورے آسیان اور دیگر ایشیائی خطوں میں شدید احتجاج اور سفارتی بحران کا سبب بنتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ واقعے سے جاپان کے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں جبکہ معاشی اور دفاعی امور پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ٹوکیو کی حکومت کی طرف سے فی الحال اس معاملے پر کوئی نرمی کا اشارہ نہیں دیا گیا ہے، البتہ بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگِ عظیم دوم کے زخم اور تاریخی تنازعات آج بھی ایشیا کی سیاست میں گہرا اثر رکھتے ہیں اور معمولی سمجھے جانے والے اقدامات بھی بڑے سفارتی تنازعات کا روپ دھار سکتے ہیں۔