LIVE
Loading Breaking News...

وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں کا ماحولیاتی اتحادوں سے اخراج

News Image
امریکہ کے سب سے بڑے بینکوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے عالمی اتحادوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ سیاسی دباؤ اور کاروباری ترجیحات میں تبدیلی کی وجہ سے وال اسٹریٹ میں گرین فنانسنگ کا رجحان تیزی سے بدل رہا ہے۔
امریکہ کے سب سے بڑے بینکوں نے جو کبھی ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہنے کا دعویٰ کرتے تھے، اب اس حوالے سے اپنے مؤقف میں نمایاں تبدیلی لانا شروع کر دی ہے۔ ایک وقت تھا جب وال اسٹریٹ کے ادارے اس بات کا مقابلہ کرتے تھے کہ کون سا بینک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، لیکن اب یہ تمام رجحانات تیزی سے الٹ رہے ہیں۔ امریکہ کے چوٹی کے تمام بڑے بینکوں نے ماحولیاتی اور موسمیاتی اتحادوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کارپوریٹ دنیا میں گرین فنانسنگ کی لہر اب دھیمی پڑ رہی ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں سیاسی دباؤ، قانونی چارہ جوئی کا خطرہ اور روایتی توانائی کے شعبے یعنی تیل اور گیس کی صنعت سے منافع کمانے کی ترجیحات شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں ریپبلکن رہنماؤں اور ریاستوں کی جانب سے ماحولیاتی پالیسیوں پر عمل پیرا بینکوں کے خلاف سخت تنقید کی گئی اور انہیں قانونی کارروائی کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس سیاسی مخالفت کے بعد بینکوں کے لیے یہ مشکل ہو گیا تھا کہ وہ ماحول دوست پالیسیوں پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اپنے سرمایہ کاروں اور صارفین کے مالی مفادات کا توازن برقرار رکھیں۔ اس صورتحال نے مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے کہ آیا کارپوریٹ اداروں کو سماجی و ماحولیاتی مقاصد کے لیے کام کرنا چاہیے یا ان کی اولین ترجیح صرف منافع کا حصول ہونی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بینکوں نے باضابطہ اتحادوں سے خود کو الگ کر لیا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مکمل طور پر ماحول دوست منصوبوں کی فنانسنگ بند کر رہے ہیں، بلکہ اب وہ اپنے فیصلے اجتماعی دباؤ کے بجائے انفرادی اور کاروباری بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ کی یہ یو ٹرن پالیسی دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا دیگر عالمی بینک بھی امریکی بینکوں کے اس نقشِ قدم پر چلتے ہیں یا ماحولیاتی مالیات کا یہ شعبہ کسی نئے روپ میں سامنے آتا ہے۔ فی الحال امریکہ کے بڑے بینکوں کے اس فیصلے نے گرین فنانسنگ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور کارپوریٹ دنیا کی ترجیحات بدل کر رکھ دی ہیں۔