Technology
امریکہ میں تائیوان کی ڈرون انڈسٹری اور نئے ٹیرف کے اثرات
امریکہ کی جانب سے تائیوان کے ڈرون اور اس کے پرزہ جات پر پندرہ فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے باوجود تائیوان کی حکومت نے امریکی مارکیٹ میں اپنے حصے کو بڑھانے کے حوالے سے پراعتماد اظہار کیا ہے۔ تائیوان کے حکام کا ماننا ہے کہ اس نئے تجارتی اقدام کے باوجود ان کی ڈرون انڈسٹری امریکی منڈی میں ترقی کرتی رہے گی۔
تائیوان کی حکومت نے جمعہ کے روز اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کیے جانے کے باوجود امریکی غیر پائلٹ فضائی گاڑیوں یعنی یو اے وی (UAV) کی مارکیٹ میں اپنا حصہ مزید بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن کی جانب سے تائیوان سے درآمد کیے جانے والے ڈرون اور ان کے اہم پرزہ جات پر پندرہ فیصد تک کی نئی ڈیوٹی اور ٹیرف لگانے کا اعلان کیا گیا۔ اس اقدام کو اگرچہ تائیوان کی برآمدات کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم تائیوان کے متعلقہ حکام کا موقف ہے کہ مقامی مینوفیکچررز کی صلاحیتیں اتنی مضبوط ہیں کہ وہ ان چیلنجز سے بخوبی نبردآزما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ تائیوان کی کمپنیاں نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہیں بلکہ ان کے معیار اور سکیورٹی کے معیارات بھی بین الاقوامی تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اس پس منظر میں حکومت کو توقع ہے کہ اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کے باوجود تائیوان کے ڈرون مینوفیکچررز امریکی خریداروں کے لیے ایک اہم اور قابل بھروسہ انتخاب بنے رہیں گے۔ دوسری جانب، تجارتی حلقے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ طویل مدت میں اس پندرہ فیصد ٹیرف کے تائیوان کی معیشت اور تکنیکی برآمدات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دریں اثنا، تائیوان کی حکومت نے اپنی انڈسٹری کو مزید تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے تاکہ عالمی منڈی میں مسابقت کو برقرار رکھا جا سکے اور امریکی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے، جس سے آنے والے دنوں میں اس شعبے میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔