Health
جیٹ لیگ کا علاج: انجینئرڈ خلیات اندرونی گھڑی کو تیز کریں
سائنسدانوں نے تجرباتی ماڈلز میں جیٹ لیگ اور ٹائم زون کی تبدیلی کے اثرات کو تیزی سے ختم کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، انجینئرڈ خلیات کا استعمال جسم کے اندرونی بائیولوجیکل کلاک کو تیزی سے معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مسافروں کو اکثر مختلف ٹائم زونز میں سفر کے دوران جیٹ لیگ یعنی جسمانی تھکن اور اندرونی گھڑی کے توازن کے بگاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انجینئرڈ خلیات کے استعمال سے اس مسئلے سے تیزی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ تحقیق ایک ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں پری کلینیکل ماڈلز کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ خلیات کی مدد سے جسم کی اندرونی گھڑی کو نئے وقت کے مطابق ڈھالنے کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔
اس نئی طبی پیش رفت میں کیپسول میں بند لیپٹن پیدا کرنے والے خلیات کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خلیات جسم کے اندرونی نظام اور سرکاڈین ردھم (circadian rhythm) کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب انسان اچانک کسی دوسرے ٹائم زون میں سفر کرتا ہے یا اس کی شفٹ تبدیل ہوتی ہے، تو اس کا بایولوجیکل کلاک متاثر ہوتا ہے، جس سے نیند میں خلل، تھکن اور دیگر طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔ نئی تحقیق ان مسائل کا حل فراہم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ تجرباتی ماڈلز پر کیے گئے ان تجربات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تاحال ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس سے مستقبل میں مسافروں، نائٹ شفٹ کے کارکنوں اور نیند کی خرابی کا شکار افراد کے لیے علاج کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ ماہرین اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مزید تحقیق کر رہے ہیں تاکہ انسانی جسم پر اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور اسے طبی میدان میں محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔