LIVE
Loading Breaking News...

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی گرجا گھروں پر جاسوسی

News Image
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ٹوئن سٹیز کے گرجا گھروں کی نگرانی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے پر مذہبی حلقوں اور شہری آزادی کے کارکنان کی جانب سے شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
امریکہ میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرف سے عبادت گاہوں اور خاص طور پر گرجا گھروں کی نگرانی کا ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹوئن سٹیز کے علاقے میں ایک بپٹسٹ چرچ کے اندر نگرانی کا یہ واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف اس خاص جماعت بلکہ دیگر مذہبی رہنماؤں میں بھی شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی نگرانی مذہبی آزادی اور بنیادی شہری حقوق کے براہ راست منافی ہے، جس سے حکومت اور مذہبی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ سکتا ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سول سایت سوسائٹی کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومتی اداروں کے طرزِ عمل پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس اور قانونی جواز کے مذہبی اجتماعات یا عبادت گاہوں پر نظر رکھنا ایک خطرناک روایت ہے۔ خصوصاً بپٹسٹ چرچ کے معاملے میں جس نوعیت کی نگرانی کی گئی، اس نے اس جماعت کے ارکان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو محفوظ اور پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی یا متعلقہ سرکاری حکام کی طرف سے اس نگرانی کے محرکات پر ابھی تک کوئی واضح اور تسلی بخش موقف سامنے نہیں آ سکا۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے کی یہ کوششیں جمہوری معاشرے کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ اس واقعے کے بعد اب قانون سازوں اور عوامی نمائندوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کتنی عبادت گاہیں اس نگرانی کا نشانہ بنی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا ملک بھر کے دیگر گرجا گھروں اور مذہبی مقامات کو بھی اس طرح کی نگرانی کا سامنا ہے۔ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو یہ ریاست اور مذہبی کمیونٹیز کے درمیان تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ اور عدالتوں میں بھی بحث متوقع ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ قومی سلامتی اور مذہبی آزادی کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔