Business
پاکستان میں ہفتہوار مہنگائی 9.11 فیصد تک پہنچ گئی
پاکستان میں اگست کے دوسرے ہفتے کے دوران قلیل المدتی مہنگائی میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق آٹا، چاول، گوشت اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان میں مہنگائی کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے گئے ہیں جن کے مطابق ملک میں قلیل المدتی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات اور دیگر معاشی رپورٹس کے مطابق اگست کے دوسرے ہفتے میں ہفتہوار مہنگائی میں 0.15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) 9.11 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ عام آدمی کی زندگی پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں کئی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ردوبدل دیکھا گیا۔ جن اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آئی ان میں گندم کا آٹا، چاول، مختلف اقسام کا گوشت اور ایندھن (پیٹرولیم مصنوعات اور گیس) سرفہرست ہیں۔ بین الاقوامی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں اور مقامی سطح پر رس رسد کے مسائل نے مہنگائی کی اس دوڑ کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے ان اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں کیونکہ ان کی آمدنی میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا۔
ماہرینِ معاشیات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ سپلائی چین کو بہتر بنانا اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ عام صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اہداف اور مالیاتی پالیسیوں کے تحت حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید سخت مالیاتی فیصلوں کا سامنا بھی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں معاشی بحالی کے سفر کے دوران مہنگائی کے اعداد و شمار انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ مالیاتی استحکام کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی شرح کو بھی ایک اعتدال پسند حد تک لایا جائے تاکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور عوام کو بھی ریلیف مل سکے۔ آنے والے ہفتوں میں مہنگائی کا یہ رجحان کیا رخ اختیار کرتا ہے، یہ آئندہ کے معاشی اشاریوں پر منحصر ہوگا۔