World
غزہ جنگ: حمل ضائع ہونے کے واقعات اور طبی بحران
العودہ اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں حمل ضائع ہونے والے تقریباً ستر فیصد کیسز اسرائیل کی جاری جنگ، ناکہ بندی اور صدمات کی وجہ سے سامنے آ رہے ہیں۔ جنگی حالات کے دوران حاملہ خواتین کو درپیش شدید ذہنی دباؤ اور طبی سہولیات کی فقدان نے صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید ترین جنگ اور انسانی بحران کے دوران حاملہ خواتین کو انتہائی سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ العودہ اسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اسپتال میں رپورٹ ہونے والے حمل ضائع ہونے (اسقاط حمل) کے تقریباً ستر فیصد واقعات براہ راست اسرائیل کی جارحیت، ظالمانہ ناکہ بندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید ذہنی و جسمانی صدمات سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال غزہ کے پہلے ہی سے تباہ حال صحت کے نظام پر ایک اور کاری ضرب کی مانند ہے۔
محاصرہ زدہ علاقے میں بمباری، مسلسل نقل مکانی، خوراک اور صاف پانی کی قلت نے عام شہریوں بالخصوص حاملہ خواتین کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل خوف، خطرات اور بنیادی طبی امداد کی عدم دستیابی کے باعث حاملہ خواتین شدید تناؤ کا شکار ہیں، جس کے اثرات ان کے حمل اور ہونے والے بچوں پر پڑ رہے ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات، الٹراسائنڈ کی سہولیات اور بنیادی طبی سازوسامان کی شدید قلت کی وجہ سے بروقت طبی امداد کی فراہمی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں زچہ و بچہ کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی اس ہولناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی اور اسپتالوں کو درکار ایندھن اور ادویات فراہم نہ کی گئیں، تو مزید کتنی ہی ماؤں کی گودیں اجڑ جائیں گی اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں مزید اضافہ ہو گا۔ غزہ کی حاملہ خواتین آج تاریخ کے بدترین انسانی المیے سے گزر رہی ہیں، جہاں ہر نئی زندگی کا آغاز شدید ترین خطرات کے سائے میں ہو رہا ہے۔