LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں دائیں بازو کی سیاست اور افغان پناہ گزینوں کا مستقبل

News Image
کابل میں سابق حکومت کے خاتمے کے بعد ہزاروں افغان شہریوں نے جان بچا کر یورپ کا رخ کیا تھا جہاں اب سیاسی تبدیلیوں کے باعث ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یورپی ممالک میں سخت گیر پالیسیوں کے نفاذ سے مہاجرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کابل میں سابق حکومت کے خاتمے اور سیاسی نظام میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد ہزاروں افغان شہریوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان میں سے بڑی تعداد نے اپنی جان اور مستقبل کی حفاظت کے لیے یورپی ممالک کی طرف ہجرت کی، اس امید کے ساتھ کہ وہاں انہیں پناہ اور ایک بہتر زندگی کے مواقع ملیں گے۔ تاہم، حالیہ برسوں کے دوران یورپ کا سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور وہاں دائیں بازو کی سیاست کا پلڑا بھاری ہوتا جا رہا ہے۔یورپی ممالک میں دائیں بازو اور سخت گیر نظریات کے حامل سیاسی رہنماؤں کی مقبولیت میں اضافے کے بعد امیگریشن اور پناہ گزینوں کے حوالے سے قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ کئی ممالک میں حکومتیں پناہ کی درخواستوں پر کڑی جانچ پڑتال کر رہی ہیں اور مہاجرین کی واپسی یا ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ان ہزاروں افغان مہاجرین کو شدید ذہنی تناؤ اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے جو طویل سفر طے کر کے اور جان جوکھوں میں ڈال کر یورپ پہنچے تھے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کے انسانی حقوق کو مقدم رکھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب بھی امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے اور وہاں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایسے میں افغان پناہ گزینوں کو جبراً واپس بھیجنا ایک بڑا انسانی المیہ جنم دے سکتا ہے۔ اس پس منظر میں افغان پناہ گزینوں کا مستقبل انتہائی تاریک نظر آ رہا ہے اور انہیں روز بروز سخت ہوتے ہوئے حالات کا سامنا ہے۔