LIVE
Loading Breaking News...

خلائی مالیکیولز اور ستاروں کی پیدائش پر نئی سائنسی تحقیق

News Image
سائنسدانوں نے ریڈیو ٹیلی سکوپ کی مدد سے خلا میں مالیکیولز کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا ہے جو ستاروں کی پیدائش کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ یہ تحقیق کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
مشہور ماہر فلکیات کارل ساگن کا یہ قول کہ ہم سب ستاروں کے مادے سے بنے ہیں، کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی سچائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بھاری عناصر ستاروں کے مراکز میں تخلیق ہوتے ہیں، اور یہ عناصر کائنات کے طول و عرض میں پھیل کر نئی دنیاؤں کی بنیاد رکھتے ہیں۔ حال ہی میں، جدید ترین ریڈیو ٹیلی سکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے خلا میں موجود مالیکیولز کا ایک انتہائی تفصیلی نقشہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو کائنات کی ساخت کو جانچنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب ماہرینِ فلکیات کے لیے یہ جاننا ممکن ہو گیا ہے کہ کائنات کے کن حصوں میں اور کیسے نئے ستارے جنم لیتے ہیں۔ ریڈیو امواج کا استعمال کرتے ہوئے، محققین کہکشاؤں کے ان علاقوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں جو عام بصری دوربینوں کی پہنچ سے باہر تھے۔ ان علاقوں میں گیس اور کائناتی دھول کے گہرے بادل موجود ہیں جہاں ستاروں کی تشکیل کا عمل جاری رہتی ہے۔ مالیکیولز کا یہ نیا نقشہ سائنسدانوں کو اس بات کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کون سے کیمیائی مرکبات اس تخلیقی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ریسرچ سے نہ صرف ستاروں کی پیدائش کے مراحل بہتر طور پر سمجھ آ رہے ہیں بلکہ کہکشاؤں کے ارتقاء کی تاریخ کو بھی نئے سرے سے لکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریڈیو فلکیات کی یہ کامیابیاں کائنات کے مزید پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہوں گی، اور خلائی علوم کی دنیا میں نئے باب رقم کیے جائیں گے۔