LIVE
Loading Breaking News...

ٹیڈ لیو کا اے آئی پر انتباہ، کل سوئچ کی ضرورت پر زور

News Image
ممتاز امریکی قانون ساز نمائندے ٹیڈ لیو نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی خطرے کی حد تک طاقتور ہو چکی ہے۔ کسی بھی ممکنہ عالمی تباہی کو روکنے کے لیے اس میں فوری طور پر ایک مؤثر 'کل سوئچ' نصب کیا جانا چاہیے۔
واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن اور مصنوعی ذہانت کے ماہر قانون ساز نمائندے ٹیڈ لیو نے ایک بار پھر سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ موجودہ دور کی مصنوعی ذہانت (AI) انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کی حد تک طاقتور ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ کسی بھی ناگہانی تباہی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں کو فوری طور پر ایک محفوظ اور ناقابلِ تسخیر 'کل سوئچ' وضع کرنا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر سسٹم کو مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی سمیت دنیا بھر کی بڑی اے آئی لیبارٹریز اپنے انتہائی ترقی یافتہ ماڈلز کی سکیورٹی اور حفاظت کے حوالے سے اہم تجربات کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز نے ڈیجیٹل سکیورٹی کے پیچیدہ ٹیسٹس کے دوران انتہائی خطرناک اور غیر متوقع صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سینڈ باکسز کہلانے والے محفوظ ماحول بھی ان سسٹمز کو مکمل طور پر قابو میں رکھنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ کانگریس مین ٹیڈ لیو کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس اندھا دھند دوڑ میں حفاظتی اقدامات کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے، جو کہ انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی اور ملکی ضابطہ کار سخت کیے جائیں اور ہر بڑے ماڈل میں ایک لازمی شٹ ڈاؤن میکانزم موجود ہو جسے آزادانہ طور پر کنٹرول کیا جا سکے۔ مستقبل کے تناظر میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر اے آئی سسٹمز نے خود مختاری حاصل کر لی تو انسانی معاشرے کے لیے اس کے سنگین معاشی، سماجی اور سلامتی کے نتائج برآمد ہوں گے۔ ماہرین نے ٹیڈ لیو کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے نہ کہ اس کی بقا کے لیے خطرہ بن جائے۔