World
سکاٹ لینڈ کے جزائر شیانٹس میں چوہوں کے خاتمے کی کامیاب مہم
مصنف ایڈم نکولسن کو اکیسویں سالگرہ پر ملنے والے سکاٹ لینڈ کے تین جزائر کو چوہوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ اس اہم ماحولیاتی اقدام کے نتیجے میں معدومیت کے خطرے سے دوچار سمندری پرندوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سنہ 1978 میں مصنف ایڈم نکولسن کو ان کی اکیسویں سالگرہ کے موقع پر سکاٹ لینڈ کے تین انتہائی دورافتادہ اور ناہموار جزائر ورثے میں ملے تھے، جنہیں شیانٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جزائر طویل عرصے تک ایک منفرد ماحولیاتی نظام کے حامل رہے لیکن یہاں باہر سے آنے والے سیاحوں اور بحری جہازوں کے ذریعے پہنچنے والے چوہوں نے اس ماحول کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ ناپسندیدہ چوہے جزائر پر موجود نایاب سمندری پرندوں کے انڈوں اور چوزوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے تھے، جس کی وجہ سے خطے میں پرندوں کی آبادی تیزی سے زوال کا شکار تھی۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، ایک جامع اور طویل المدتی ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے کا آغاز کیا گیا جس کا بنیادی مقصد ان جزائر کو مکمل طور پر چوہوں سے پاک کرنا تھا۔ اس مشکل ترین مہم کے دوران ماہرینِ ماحولیات اور رضا کاروں نے انتہائی کٹھن حالات میں کام کیا اور ایک منظم حکمت عملی کے تحت ان تینوں جزائر سے تین ہزار چھ سو سے زائد حملہ آور چوہوں کا کامیابی کے ساتھ خاتمہ کیا۔ یہ قدم نہ صرف ان جزائر بلکہ پورے برطانیہ کے سمندری پرندوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔
چوہوں کے خاتمے کے بعد ان جزائر کی قدرتی فضا ایک بار پھر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ چند سالوں کے اندر ہی اس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور خطرے سے دوچار سمندری پرندوں نے بغیر کسی خطرے کے دوبارہ ان چٹانوں اور گھونسلوں کا رخ کیا۔ آج شیانٹس کے یہ جزائر سمندری پرندوں کے لیے ایک محفوظ ترین پناہ گاہ بن چکے ہیں، جہاں پفن، فُلِمر اور دیگر نایاب اقسام کے پرندے آزادی سے پھل پھول رہے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین اس کامیابی کو دنیا بھر کے لیے ایک بہترین مثال قرار دے رہے ہیں کہ کس طرح مربوط کوششوں سے تباہ حال ماحولیاتی نظام کو بحال کیا جا سکتا ہے۔