World
گوش آئی لینڈ پر چوہوں کا حملہ، الشیطان پرندے کی نسل خطرے میں
آسٹریلوی سائنسدان جیمی کلی لینڈ کے مطابق سنہ 2018 میں گوش آئی لینڈ پر قیام کے دوران انہوں نے صرف ایک ہفتے میں چوہوں کو الشیطان پرندے کے پندرہ چوزوں کو مارتے دیکھا۔ غیر ملکی چوہوں کی اس جارحانہ نسل کی وجہ سے نایاب پرندے کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
آسٹریلوی سائنسدان جیمی کلی لینڈ نے سنہ 2018 کے دوران دور افتادہ گوش آئی لینڈ پر ایک پورا سال گزارا، جہاں انہوں نے ایک انتہائی ہولناک مشاہدہ کیا۔ اپنے قیام کے دوران انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح وہاں موجود چوہوں نے محض ایک ہفتے کے اندر الشیطان پرندے یعنی ٹرسٹن الباٹراس کے پندرہ معصوم چوزوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ پرندے دنیا کے نایاب ترین بحری پرندوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی بقا اب شدید خطرے کی زد میں ہے۔
محققین اور ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، گوش آئی لینڈ پر باہر سے لائے جانے والے یہ چوہے اب بحری پرندوں کے چوزوں اور یہاں تک کہ بالغ پرندوں پر بھی حملے کر رہے ہیں۔ یہ جارحانہ جاندار اس خطے میں الشیطان پرندے کو معدومیت کے دہانے پر دھکیل رہے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہر سال محض ان چوہوں کی وجہ سے لاکھوں بحری پرندوں کے انڈے اور چھوٹے چوزے تلف ہو جاتے ہیں، جو کہ اس خطے کے ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
اس صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، بالخصوص گرم ہوتے ہوئے سرما کے موسم ان جانداروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان آوارہ اور غیر ملکی چوہوں کی آبادی کو قابو کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ نایاب بحری پرندے ہمیشہ کے لیے اس کرہ ارض سے ناپید ہو جائیں گے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کے جنگلی حیات کے تحفظ کے اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔