Sports
لاس اینجلس لیکرز کی فروخت اور کھیلوں کی دنیا میں سرمایہ کاری کا رجحان
لاس اینجلس لیکرز کی حالیہ فروخت نے شمالی امریکہ کے ارب پتی طبقے میں کھیلوں کی ٹیموں کی خریداری کی دوڑ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مہنگے میڈیا حقوق اور بڑھتی ہوئی شائقین کی دلچسپی کی وجہ سے کھیلوں کے اثاثوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
نیویارک میں کھیلوں کی صنعت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک بہت بڑی ڈیل سامنے آئی ہے جس نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ لاس اینجلس لیکرز کی بلاک بسٹر فروخت نے شمالی امریکہ کے ارب پتی اشرافیہ کے درمیان کھیلوں کے میدان میں 'گولڈ رش' یا سونے کی دوڑ کو زندہ رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کے بڑے سودے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کھیلوں کے فرنچائزز اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انتہائی منافع بخش کاروباری ادارے بن چکے ہیں۔ اس پوری دوڑ کے پیچھے بنیادی طور پر مہنگے میڈیا رائٹس، اسٹیڈیمز میں شائقین کی ریکارڈ حاضری اور مداحوں کا وہ جنون ہے جو کسی بھی ٹیم کی قیمت کو آسمان پر پہنچا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وینچر کیپٹلسٹ اور بڑے سرمایہ کار اس شعبے کو طویل المدتی اور محفوظ منافع کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے دولت مند افراد اسمارٹ انویسٹمنٹ کے طور پر کھیلوں کی ٹیموں کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں آج کے دور میں کھیلوں کے حقوق، بالخصوص ڈیجیٹل اسٹریمنگ اور ٹیلی ویژن کے نشریاتی حقوق کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان تمام عوامل نے مل کر کھیلوں کی معیشت کو ایک نئی بلندی پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری معمول بنتی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس رجحان میں مزید تیزی دیکھنے کو ملے گی کیونکہ بڑے سرمایہ کار اس منافع بخش مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہیں۔ لاس اینجلس لیکرز کا یہ معاہدہ آنے والے وقتوں میں دیگر کھیلوں کی ٹیموں کے لیے بھی قیمتوں کے نئے معیارات طے کرے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپورٹس انڈسٹری مستقبل قریب میں دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معاشی مارکیٹوں میں سر فہرست رہے گی۔