World
مغربی کنارہ: اسرائیلی پابندیوں سے مریض اور حاملہ خواتین متاثر
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی ناکہ بندی اور پابندیوں کے باعث فلسطینی مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طویل انتظار اور چیک پوائنٹس پر رکاوٹوں کی وجہ سے بعض خواتین کو اسپتالوں کے باہر بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
مغربی کنارے میں جاری سخت اسرائیلی پابندیوں اور فوجی ناکہ بندی نے عام فلسطینی شہریوں بالخصوص مریضوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق فلسطینیوں کو روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوجی چیک پوائنٹس پر گھنٹوں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے علاج کی غرض سے جانے والے افراد وقت پر طبی مراکز تک نہیں پہنچ پاتے۔ انتہائی تشویشناک صورتحال اس وقت سامنے آئی جب کئی حاملہ خواتین کو چیک پوائنٹس پر شدید تلاشی اور طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اسپتالوں کے باہر ہی بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سفاکانہ ناکہ بندی نے نہ صرف صحت کے نظام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ انسانیت سوز مظالم کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمبولینسوں اور مریضوں کو گھنٹوں روکے رکھنا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور مغربی کنارے میں جاری ان ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ عام شہریوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔