Technology
روسی میزائل میں اینڈیا اے آئی چپ کی موجودگی کا انکشاف
یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے نئے کروز میزائل میں اینڈیا کا اے آئی چپ استعمال کیا گیا ہے۔ اس دریافت سے میزائل سازی میں جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تصدیق ہوتی ہے۔
یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی (HUR) نے ایک اہم اور چونکا دینے والے انکشاف میں بتایا ہے کہ روس کے نئے ایس-71 مونوکروم (S-71 Monochrome) ایئر لانچڈ کروز میزائل کے اندر اینڈیا (Nvidia) کا جیٹسن اورن (Jetson Orin) کمپیوٹر ماڈیول دریافت ہوا ہے۔ انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ اس تکنیکی آلے کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس جدید ہتھیار میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس دریافت سے عالمی دفاعی ماہرین کے لیے بھی نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں کہ آیا تجارتی نوعیت کی حامل یہ ٹیکنالوجی کس طرح پابندیوں کے باوجود دفاعی مقاصد کے لیے حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ انٹیلی جنس رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے مسلح تنازع جاری ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف جدید ترین دفاعی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اینڈیا کا یہ ماڈیول بنیادی طور پر روبوٹکس اور خودکار سسٹمز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور اگر اسے میزائلوں میں نیویگیشن یا ہدف کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تو یہ جنگی حکمت عملی میں ایک نیا موڑ ہے۔ یوکرینی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اس بات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح حساس اور دوہرے استعمال (dual-use) کی حامل ٹیکنالوجیز پابندیوں کے باوجود ہتھیاروں میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس معاملے پر مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ سپلائی چین کس طرح کام کر رہی ہے اور اس ٹیکنالوجی کی فراہمی میں کون سے ذرائع استعمال ہوئے ہیں۔