Technology
خلائی مدار میں ادویات کی جانچ: ٹرانس سیل بائیولوجکس اور اسپیس کارگو کا معاہدہ
ٹرانس سیل بائیولوجکس اور اسپیس کارگو ان لمیٹڈ نے مدار میں مائیکرو گریویٹی کے تحت ادویات اور ویکسینز کی پری کلینیکل ٹیسٹنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس انقلابی اشتراک سے جانوروں پر تجربات کے بغیر سائنسی تحقیق کو نئے خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
حیدرآباد، تلنگانہ اور فوٹز، لکسمبرگ کی معروف کمپنیوں ٹرانس سیل بائیولوجکس پرائیویٹ لمیٹڈ اور اسپیس کارگو ان لمیٹڈ نے ایک تاریخی شراکت داری کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد خلائی مدار میں مائیکرو گریویٹی کی منفرد خصوصیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ادویات اور ویکسینز کی پری کلینیکل جانچ کرنا ہے۔ یہ اقدام سائنسی اور طبی تحقیق کے میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید سائنسی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
دونوں اداروں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت انسانی خلیات اور ٹشوز پر مبنی ماڈلز کو خلائی ماحول میں بھیجا جائے گا تاکہ وہاں کی کشش ثقل سے پاک فضا میں ادویات کے اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف طبی تحقیق کے نتائج میں بہتری آئے گی بلکہ جانوروں پر کیے جانے والے روایتی تجربات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خلائی ماحول میں خلیات کی نشوونما اور ادویات کا ردعمل زمین کے مقابلے میں زیادہ واضح اور مختلف ہوتا ہے، جو مستقبل کی ادویات سازی میں انقلاب برپا کر دے گا۔
ٹرانس سیل بائیولوجکس کی بانی اور سی ای او ڈاکٹر سبھاشنی سری واستو نے اس شراکت داری پر جوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم بائیوٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے دروازے کھولے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیس کارگو ان لمیٹڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہمیں خلائی ماحول کی سائنس کو زمینی طبی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔ اس منصوبے کے تحت حاصل ہونے والے اعداد و شمار مستقبل کی وبائی امراض سے نمٹنے اور کینسر جیسی پیچیدہ بیماریوں کے علاج کی تیاری میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گے۔
اسپیس کارگو ان لمیٹڈ کے حکام نے بھی اس بات چیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلا کا پرامن استعمال اور انسانیت کی فلاح کے لیے سائنسی تحقیق کا فروغ ان کا بنیادی مقصد ہے۔ دونوں کمپنیاں آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز کریں گی، جس پر پوری دنیا کے سائنسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس تحقیق کے مثبت نتائج سے فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں ایک نیا دور شروع ہوگا جو کم وقت میں زیادہ موثر ادویات کی تیاری کو یقینی بنائے گا۔