LIVE
Loading Breaking News...

جیسن آرڈے کی موت المیہ ہے، برطانوی وزیراعظم کا بیان

News Image
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی پراسرار موت کے بعد برطانوی وزیراعظم نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وہ حال ہی میں ایک پلجیرزم اسکینڈل کے مرکز میں رہے تھے جن کی اچانک موت نے علمی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
برطانوی علمی اور تعلیمی حلقوں میں اس وقت شدید صدمے کی لہر دوڑ گئی جب کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے مردہ پائے گئے۔ جیسن آرڈے، جو حال ہی میں ایک سنگین پلجیرزم یعنی علمی سرقہ کے اسکینڈل کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے ہوئے تھے، کی اچانک موت نے کئی اہم اور کڑے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد برطانوی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں اس واقعے کو کئی سطحوں پر ایک بڑا المیہ قرار دیا ہے۔ جیسن آرڈے کا شمار ان نمایاں علمی شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اکیڈمک دنیا میں ایک خاص مقام بنایا تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل ان پر علمی سرقہ (plagiarism) کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس نے ان کے کیریئر اور کیمبرج یونیورسٹی کی انتظامیہ کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا۔ اس اسکینڈل کے بعد سے وہ مسلسل میڈیا اور تعلیمی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے، اور اس دوران ان کی اچانک موت نے اس پورے قضیے کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور معروف اخبارات کے مطابق جیسن آرڈے کی موت نے کیمبرج یونیورسٹی کے اندر نسلی امتیاز، بھرتی کے طریقہ کار اور تعلیمی اداروں میں احتساب کے نظام پر بھی گہرے سوالات چھوڑ دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو اس پورے معاملے میں شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس المناک واقعے کے پیچھے کیا حقائق کارفرما تھے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ دوسری جانب، تعلیمی برادری کی طرف سے جیسن آرڈے کے لواحقین سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو درپیش ذہنی دباؤ اور دفتری سیاست جیسے اہم مسائل پر ایک بار پھر مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔