LIVE
Loading Breaking News...

اپرہ دُر: سکیورٹی خدشات پر 18 گرلز اسکولوں کی بندش کی سفارش

News Image
اپرہ دُر کے سرحدی علاقوں میں موجود سکیورٹی خدشات کے باعث ضلعی ایجوکیشن آفیسر نے 18 گرلز اسکولوں کو ایک ہفتے کے لیے عارضی طور پر بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طلباء اور تدریسی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
لوئر دُر اور اپرہ دُر کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر ضلع کے تعلیمی حکام نے ایک اہم اور احتیاطی قدم اٹھاتے ہوئے 18 گرلز اسکولوں کو عارضی طور پر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع اپرہ دُر کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فی میل) کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے، جس میں سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث طالبات اور تدریسی عملے کی جان و مال کے تحفظ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ سب ڈویژنل ایجوکیشن افسران کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ مذکورہ علاقوں میں قائم کئی اسکول موجودہ حالات کے تناظر میں ممکنہ خطرات کی زد میں ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پناکوٹ، قلندائی، دوبندو، عمری لعل، شنڈل باغ، قشقری، روخان، کس، رضا بندہ اور خان شہید کے علاقوں میں واقع گرلز ہائی، مڈل اور پرائمری اسکولوں کو 15 اگست سے 22 اگست تک بند رکھنے کی اجازت دے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس خط کی نقول ابتدائی و ثانوی تعلیم کے سیکریٹری، ڈائریکٹر ایجوکیشن، ڈپٹی کمشنر اپرہ دُر اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ دوسری جانب، اپرہ دُر کے ڈپٹی کمشنر نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ تاحال ان 18 گرلز اسکولوں کی بندش کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سفارش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپرہ دُر کے پہاڑی علاقے دوبندو میں ایک سکیورٹی آپریشن جاری ہے، جہاں بدھ کی رات پولیس اور مبینہ دہشت گردوں کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپ جمعرات تک جاری رہی تھی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تاہم اس دوران کسی جانی نقصان کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی لوئر دُر کے علاقے حیدری ٹاپ پر دہشت گردوں کے ساتھ فع و تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید اور 16 زخمی ہو گئے تھے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے سرچ آپریشن چلا رہے تھے۔ ان تمام واقعات کے بعد خطے میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں اور عام شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔