Pakistan
عبدالعلیم خان کا صوبوں میں انتظامی اکائیاں بنانے کا مطالبہ
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے ملک کے ہر صوبے میں چار انتظامی اکائیاں بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو اس اہم قومی معاملے پر سنجیدہ غور کرنے کی دعوت دی ہے۔
وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک بھر میں انتظامی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے ہر صوبے کے اندر چار نئی انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں تاکہ گراس روٹ کی سطح پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا سکے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بڑے صوبوں کے لیے مرکز سے دور دراز علاقوں کو کنٹرول کرنا اور وہاں کے مسائل حل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے یاد دلایا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ سنہ 2010 سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور وہاں کے عوام کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ انہیں انتظامی طور پر خود مختاری دی جائے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ استحکام پاکستان پارٹی جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان نئے انتظامی یونٹس کے بننے سے نہ صرف پسماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی بلکہ عوام کے بنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔
آئی پی پی کے صدر نے ملک کے تمام سرکردہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ ذاتی یا سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اس اہم آئینی و انتظامی معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور وکندریقرت (decentralized) نظام حکومت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سیاسی قائدین کو مل بیٹھ کر ملک کی بہتری کے لیے ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو طویل المعاد عرصے میں عوام کے لیے سودمند ثابت ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عبدالعلیم خان کا یہ بیان ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کے مختلف خطوں سے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کے مطالبات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگرچہ اس تجویز پر سیاسی حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل متوقع ہے، تاہم صوبائی سطح پر انتظامی اصلاحات کا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں خاصا اہم ثابت ہو سکتا ہے۔