World
لنڈسے گراہم ایران جنگ کے انکشافات، دستاویزی فلم سامنے آ گئی
ایک نئی دستاویزی فلم کے سامنے آنے والے مناظر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں انتہائی جذباتیت کا اظہار کیا۔ فوٹیج کے مطابق وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے قائل کرنے پر فخر محسوس کر رہے تھے۔
ایک نئی متوقع دستاویزی فلم کے چند اقتباسات اور مناظر سامنے آئے ہیں جن میں معروف امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کو ایران کے خلاف جنگ کے امکانات پر انتہائی جذباتی ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس فوٹیج کے مطابق، جو کہ اب عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، سینیٹر گراہم مبینہ طور پر اس بات کا کریڈٹ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے کس طرح قائل کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ انکشافات امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نیا پینڈورا باکس کھول سکتے ہیں۔ دستاویزی فلم میں پیش کیے گئے مناظر میں لنڈسے گراہم کو انتہائی جوش و خروش کے عالم میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ خطے میں عسکری کارروائیوں کے حامی کے طور پر اپنے کردار پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج اس وقت ریکارڈ کی گئی جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور واشنگٹن میں پالیسی ساز تہران کے خلاف سخت ترین اقدامات پر غور کر رہے تھے۔ سینیٹر لنڈسے گراہم اپنے جارحانہ خارجہ پالیسی کے مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں اور وہ طویل عرصے سے ایران کے روایتی ناقدین میں سرفہرست رہے ہیں۔ اس نئی دستاویزی فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف جنگی جنون اور جارحانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے والے حلقے اس پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں واشنگٹن کے اندرونی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ اس قسم کے دستاویزی انکشافات مستقبل کی امریکی خارجہ پالیسی کو کیسے متاثر کریں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مناظر اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کس طرح امریکی سیاسی شخصیات اہم عسکری فیصلوں کے پس منظر میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اور یہ کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما رہے ہیں۔