LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس اور جبران ناصر کا بیان

News Image
سماجی رہنما اور وکیل جبران ناصر نے میر رضا علی قتل کیس میں مجرموں اور قاتلوں کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور حقائق کو چھپانے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔
معروف سماجی رہنما اور انسانی حقوق کے وکیل محمد جبران ناصر نے میر رضا علی قتل کیس کے حوالے سے ایک بار پھر انتہائی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ اور تفتیشی اداروں سے سخت الفاظ میں استفسار کیا ہے کہ اس ہولناک معاملے میں ملوث اصل قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے مبینہ طور پر کیوں بچایا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور تاخیری حربے معاشرے میں قانون کی بالادستی پر بڑا سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ جبران ناصر نے اس بات پر زور دیا کہ مقتول میر رضا علی کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران جن خامیوں اور مبینہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں۔ اگر بااثر افراد کی مداخلت کی وجہ سے قاتلوں کو تحفظ دیا جاتا رہا تو اس سے قانون کا احترام مزید کمزور ہو گا اور عوام کا انصاف کے نظام سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کیس کا فوری اور غیر جانبدارانہ نوٹس لیں۔ اس کیس نے ملک بھر میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی میر رضا علی کے لیے انصاف کی مندمل آوازیں اٹھ رہی ہیں جہاں عوام کی بڑی تعداد قاتلوں کی فوری گرفتاری اور سزائے موت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اگر اس کیس میں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سیاہ دھبہ بن جائے گا۔ اختتامی طور پر، جبران ناصر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اور سول سوسائٹی کے دیگر اراکین اس کیس کی کڑی نگرانی جاری رکھیں گے تاکہ کسی بھی سطح پر انصاف کا قتل نہ ہونے پائے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ تمام تر دبائو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سچائی کو سامنے لایا جائے اور میر رضا علی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے دردناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔