Business
الیکٹرک گاڑیوں کے اہداف میں بار بار تبدیلی، موٹرسٹس غیر یقینی کا شکار
برطانوی حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے اہداف میں مسلسل تبدیلیوں پر ماہرین اور صارفین کی طرف سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ بار بار پالیسی بدلنے سے خریداروں میں شدید ابہام پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں ان کا موقف کیا ہوگا۔
برطانوی حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں یعنی ای وی کی فروخت کے اہداف میں مسلسل اور بار بار کی جانے والی تبدیلیوں نے موٹرسائیکل سواروں اور کار مالکان کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو خود معلوم نہیں کہ وہ اس پالیسی کو کس سمت لے کر جانا چاہتی ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں اور خریداروں کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ بار بار گول پوسٹ تبدیل کرنے کے اس عمل سے صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ عام صارفین کا اعتماد بھی متزلزل ہو رہا ہے۔
روب ہُل کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے خود گنتی بھول دی ہے کہ حکومت نے کتنی بار الیکٹرک کاروں کے ہدف کی تاریخوں اور شرائط میں ردوبدل کیا ہے۔ جب پالیسیاں اتنی غیر مستحکم ہوں گی تو کوئی بھی عام شہری مہنگی الیکٹرک گاڑی خریدنے کا خطرہ مول لینے سے گریز کرے گا۔ گاڑیوں کے خریدار اب اس بات پر پریشان ہیں کہ آیا وہ پٹرول یا ڈیزل گاڑیوں پر انحصار جاری رکھیں یا پھر حکومت کے ان بدلتے ہوئے وعدوں پر اعتبار کریں۔
آٹوموٹو سیکٹر کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس قسم کے غیر سنجیدہ اقدامات سے ملک میں گرین انرجی اور صفر اخراج کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگ رہا ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ایک طویل المدتی اور پائیدار روڈ میپ پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام اور سرمایہ کاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکے اور مارکیٹ میں پائیدار استحکام آ سکے۔