LIVE
Loading Breaking News...

بڑھاپا ایک پروگرام ہے یا بگاڑ؟ نئی سائنسی تحقیق

News Image
سائنسدان جون یُو کاؤ نے لاکھوں خلیات کے سالماتی نشانات کا تجزیہ کرکے انکشاف کیا ہے کہ بڑھاپا محض ٹُوٹ پھُوٹ کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ تحقیق عمر رسیدگی کے عمل کو سمجھنے اور مستقبل میں اس کی روک تھام کے نئے دروازے کھولتی ہے۔
سائنسی دنیا میں یہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے کہ بڑھاپے کا عمل انسان کے جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ بڑھاپا دراصل خلیات کی کارکردگی میں کمی اور روزمرہ کی ٹُوٹ پھُوٹ کا نتیجہ ہے۔ تاہم، حال ہی میں ایک معروف سائنسدان جون یُو کاؤ (Junyue Cao) نے لاکھوں چوہوں کے خلیات کے سالماتی نشانات (molecular signatures) کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد ایک بالکل نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑھاپا محض اچانک ہونے والا کوئی بگاڑ نہیں ہے، بلکہ یہ خلیاتی معاشرے کی ایک باقاعدہ تشکیلِ نو (remodeling) کا عمل ہے۔ اس سائنسی پیش رفت نے جیو بائیولوجی کے میدان میں ہلچل مچا دی ہے اور محققین کو عمر رسیدگی کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق، جیسے جیسے جاندار کی عمر بڑھتی ہے، اس کے خلیات بے ترتیب انداز میں کمزور نہیں ہوتے بلکہ ایک مخصوص اندرونی پروگرام کے تحت اپنی ساخت اور افعال کو تبدیل کرتے ہیں۔ اس مطالعے میں جدید ترین سنگل سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے محققین انفرادی خلیات کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ اعضاء کی کارکردگی میں کیوں اور کیسے کمی واقع ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج نہ صرف حیاتیات کے بنیادی اسرار کو سمجھنے میں اہم ہیں، بلکہ یہ مستقبل میں عمر سے متعلقہ بیماریوں کے علاج اور انسانی عمر کو طویل یا صحت مند بنانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر بڑھاپا واقعی ایک پروگرام ہے، تو مستقبل میں اس پروگرام کے کچھ حصوں کو موڑنا یا سست کرنا بھی ممکن ہو سکے گا۔