Technology
انسیلیکو میڈیسن کا ورچوئل ایجنگ سیل پلیٹ فارم اور بائیولوجیکل ایج
انسیلیکو میڈیسن نے بائیولوجیکل ایج کو بنیادی شرط کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انڈسٹری کا پہلا ملٹی ایجنٹ ورچوئل ایجنگ سیل پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد ورچوئل سیل ریسرچ میں مزید بہتری لانا اور طبی تحقیق کو نئی راہیں دکھانا ہے۔
کیمبرج، میساچوسٹس میں واقع معروف بائیو ٹیک کمپنی انسیلیکو میڈیسن نے ورچوئل سیل ریسرچ کی دنیا میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے حیاتیاتی عمر (Biological Age) کو اس تحقیق کا مرکزی حصہ بنا دیا ہے۔ سنہ 2014 کے این ویڈیا جی ٹی سی سے لے کر پریسیشس جی پی ٹی ماڈل سیریز تک ایک دہائی پر محیط مسلسل تحقیق اور تلاش کے بعد، کمپنی نے انڈسٹری کا پہلا ملٹی ایجنٹ 'ورچوئل ایجنگ سیل' (VAC) پلیٹ فارم پیش کیا ہے۔ اس نئے پلیٹ فارم میں حیاتیاتی عمر کو ایک بنیادی اور کلیدی شرط کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس سے سائنسی اور طبی تحقیق میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
اس نئی پیش رفت کے تحت، انسیلیکو میڈیسن نے ایک وقف شدہ ورچوئل ایجنگ سیل ویب پیج بھی لانچ کیا ہے اور ساتھ ہی ملٹی ایجنٹ سے چلنے والے وی اے سی جنریشن پلیٹ فارم کا تفصیلی پیش نظارہ بھی دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جدید پلیٹ فارم خلیاتی سطح پر بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو سمجھنے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک انتہائی طاقتور ٹول ثابت ہوگا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدان خلیات کی عمر کے تعین اور اس سے جڑے پیچیدہ عوامل کا زیادہ باریک بینی سے تجزیہ کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق، یہ نیا پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت اور بائیولوجی کے حسین امتزاج کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملٹی ایجنٹ سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے، یہ پلیٹ فارم بڑی مقدار میں حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے یا اس پر قابو پانے کے نئے طریقوں کی تلاش میں مدد ملے گی۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں نئی ادویات کی تیاری اور عمر رسیدہ بیماریوں کے علاج میں بھی نمایاں پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
انسیلیکو میڈیسن کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب عالمی سطح پر بائیو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ محققین اور سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد اس نئے پلیٹ فارم کی آمد کا خیرمقدم کر رہی ہے کیونکہ یہ خلیاتی تحقیق کے روایتی طریقوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لانچ کے بعد، طبی اور سائنسی حلقوں میں ورچوئل سیل ریسرچ کے حوالے سے توقعات مزید بڑھ گئی ہیں اور مستقبل قریب میں اس شعبے میں مزید حیرت انگیز انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔