World
تقسیم ہند کی یاد میں شاعری اور پیداترا کا انعقاد
برصغیر کی تقسیم کے المناک ایام کی یاد میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا جس میں شاعری اور پیداترا کے ذریعے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے برصغیر کی تاریخ کے اس تاریک باب اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت پیش آنے والے المناک واقعات اور مصائب کی یاد میں مختلف مقامات پر خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقریبات کا بنیادی مقصد اس تاریخی سانحے کے دوران جانیں گنوانے والے لاکھوں افراد اور متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور نئی نسل کو اس دور کی مشکلات سے آگاہ کرنا تھا۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے گئے جن میں شاعری کے ذریعے اس دور کے درد اور کرب کو لفظوں میں ڈھالا گیا۔
تقریبات کے دوران پیداترا (پیدل سفر) کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تقسیم کے متاثرین کے نام اور ان کے مصائب کی داستانیں درج تھیں۔ اس پیداترا کا مقصد لوگوں کو یہ یاد دلانا تھا کہ آزادی کتنی بڑی قیمت چکانے کے بعد حاصل ہوئی اور اس کے ساتھ تقسیم کا جو زخم لگا وہ آج بھی تاریخ کا ایک اہم اور دردناک باب ہے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہمیں تاریخ کے اس تلخ باب کو فراموش نہیں کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں امن اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر تقسیم کے دوران جان بحق ہونے والے افراد کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا بھی کی گئی اور تمام شرکاء نے امن کا عزم دہرایا۔