Technology
کافی شاپ میں ریموٹ ورک: پیداواری صلاحیت میں اضافے کی وجہ
مساحتِ کار کے رجحان میں اضافے کے ساتھ ہی لوگ اب گھر سے باہر کیفے اور لائبریریوں کا رخ کر رہے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کافی شاپ کا ماحول اور ہلکا شور ملازمین کی تخلیقی صلاحیتوں اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔
دور دراز سے کام کرنے یا ریموٹ ورک کے رجحان میں تیزی سے اضافے کے بعد اب زیادہ تر لوگ اپنے گھر کے دفاتر سے باہر نکل کر کافی شاپس کا رخ کر رہے ہیں۔ ایم آئی ٹی (MIT) کی ایک تحقیق کے مطابق، ریموٹ ورک کے اوقات کا تقریباً ایک تہائی حصہ ان "تیسری جگہوں" میں صرف ہوتا ہے جن میں کیفے، لائبریریز اور کو-ورکنگ سپیسز شامل ہیں۔ اس رجحان نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر یہ جگہیں کام کے لیے اتنی پرکشش کیوں ہیں۔
آسٹریلیا کی سورنبرگ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق، ایک خاص سطح کا پس منظر کا شور، جو عام طور پر کافی شاپس میں پایا جاتا ہے، انسان کی سوچنے کی صلاحیت اور تخلیقی عمل کو مہمہ ذم کرتا ہے۔ مکمل خاموشی بعض اوقات دماغ کو سست کر دیتی ہے جبکہ ہلکی گہما گہمی اور کافی کی مہک انسان کو زیادہ مستعد رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ گھر کے ماحول سے ہٹ کر ایک پیشہ ورانہ فضا کا احساس ملازمین کو توجہ مرکوز رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کافی شاپس میں کام کرنے کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو تنہائی کے احساس سے بچاتی ہیں۔ گھر میں اکیلے کام کرتے ہوئے اکثر بوریت یا سستی طاری ہو جاتی ہے، جبکہ کیفے میں اردگرد لوگوں کی موجودگی ایک متحرک ماحول فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ پرائیویسی کے مسائل اور شور کی زیادتی کے کچھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ جگہیں دنیا بھر کے فری لانسرز اور کارپوریٹ ملازمین کے لیے پسندیدہ ترین مقام بن چکی ہیں۔
آنے والے وقتوں میں دفاتر کے روایتی تصور میں مزید تبدیلی متوقع ہے کیونکہ کمپنیاں بھی اس بات کو تسلیم کر رہی ہیں کہ ملازمین ہر وقت چار دیواری میں بند رہ کر کام کرنے کے بجائے لچکدار ماحول میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کافی شاپس اب محض کافی پینے کی جگہ نہیں رہیں بلکہ یہ جدید معیشت میں تخلیقی اور پیداواری حب کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔