World
امریکہ کا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان، تیل کی سپلائی پر اثرات
عالمی سطح پر تیل کی کم ہوتی ہوئی سپلائی کے پیش نظر امریکہ نے ایران کے خلاف غیر معینہ مدت تک بحری ناکہ بندی کا عندیہ دیا ہے۔ اس کشیدگی کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں کمی اور مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان امریکہ نے ایران کے خلاف غیر معینہ مدت تک بحری ناکہ بندی کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس ممکنہ اقدام کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی بحریہ اسٹریٹجک امور کے تحت اس خطے میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے اور تیل کی ترسیل کے راستوں کو مانیٹر کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایسے اقتصادی اور عسکری ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں گے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ دوسری جانب، اس کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تجارتی اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحری ناکہ بندی سے نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ادھر، ٹینکر ٹریکرز کی رپورٹس کے مطابق ایران کے جزیرہ خارگ پر تیل کے ٹینکروں کی لوڈنگ کا عمل بحال ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، لیکن امریکہ کی جانب سے ملنے والے سخت اشاروں نے سرمایہ کاروں اور توانائی کے تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی اس خطے میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے تاکہ درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی یہ نئی کشیدگی عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور تمام ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔