World
افغانستان میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل، کابل میں تقریبات
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی دوبارہ حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر شہریوں اور حکام نے تقریبات کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رہا۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کو پانچ سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور سرکاری حکام بڑی تعداد میں دارالحکومت میں جمع ہوئے تاکہ اس سنگ میل کو منایا جا سکے۔ یاد رہے کہ پانچ سال قبل اگست کے مہینے میں طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تھا جس کے بعد ملک میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا تھا۔
دارالحکومت کابل میں ہونے والے اجتماعات اور تقریبات کے دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ حکارتی عہدیداروں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کی جانے والی ترقی اور ملک میں امن و امان کے قیام کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کی تعمیر و ترقی کا سفر جاری رکھا جائے گا اور بیرونی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب، ان پانچ برسوں کے دوران افغانستان کو کئی بین الاقوامی اور معاشی چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں افغانستان کی معاشی خودمختاری اور سفارتی تنہائی کا خاتمہ ملک کی قیادت کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔
کابل میں ہونے والی ان تقریبات نے ایک بار پھر عالمی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتیحکام پانچ سال کی کامیابیاں گنوا رہے ہیں، وہیں عام افغان شہری روزمرہ کی معاشی مشکلات اور روزگار کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ آنے والا وقت ہی طے کرے گا کہ افغانستان کے یہ حکمران اندرونی اور بیرونی محاذوں پر کس حد تک کامیابی حاصل کر پاتے ہیں۔