Business
پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ اور صارفین پر اس کے اثرات
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں فی لیٹر ایک روپیہ چونتیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے جس کا مالی بوجھ بالآخر صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔ اس فیصلے سے سالانہ بنیادوں پر صارفین پر چھبیس ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
وفاقی حکومت نے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے پیٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن میں فی لیٹر ایک روپیہ چونتیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن جب اسے سالانہ کھپت کے اربوں لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر لاگو کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات عام شہریوں اور مجموعی معیشت پر گہرے ہوتے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں کشیدہ صورتحال اور مہنگائی کے اس دور میں پہلے سے پریشان حال صارفین کے لیے یہ ایک اور بڑا مالی دھماکہ ہے، جو اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اس اضافے کا اصل بوجھ آخر کون اٹھائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ڈیلرز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دی گئی تھی، جس کے بعد حکومت نے فوری طور پر ان کے مطالبات کو مان لیا۔ اس فیصلے کے تحت ڈیلرز کا مارجن آٹھ روپے چونٹھ پیسے سے بڑھ کر نو روپے اٹھانوے پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ہونے والے لین دین پر ڈیلرز کی کٹوتی میں بھی ستر فیصد تک کمی کر چکی ہے، جس سے ان کے کاروباری اخراجات میں پہلے ہی کمی واقع ہو چکی تھی۔ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی مجموعی کھپت کو دیکھا جائے تو اس نئے اضافے سے صارفین پر ہر ماہ تقریباً دو ارب بیس کروڑ روپے اور سالانہ چھبیس ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نو منتخب چیئرمین ملک خدا بخش کے مطابق یہ ان کا تین سال پرانا مطالبہ تھا جسے اب پورا کر لیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف تھا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر کمیشن میں یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ تاہم، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں جیسے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی دھمکی پر حکومت فوراً جھک جاتی ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں پہلے ہی کئی طرح کے فکسڈ چارجز اور لیویز شامل ہیں جن میں تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ڈیلرز مارجن، پیٹرولیم لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ فکسڈ چارجز بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی سے آزاد ہوتے ہیں اور صارفین کو ہر حال میں ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اس تازہ ترین اضافے کے بعد ڈیلرز کا مارجن ریٹیل قیمت کے سب سے بڑے مستقل اجزاء میں شامل ہو چکا ہے۔ عام صارفین کے لیے مہنگائی کے اس دور میں ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈالے گا، کیونکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونخور کی قیمتیں براہ راست پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے ذریعے وقتی طور پر ہڑتال کا خطرہ تو ٹل گیا ہے لیکن اس کا طویل المدتی خمیازہ ملک کے عام شہریوں اور موٹر سائیکل و کار مالکان کو بھگتنا ہوگا۔