LIVE
Loading Breaking News...

ریڈِٹ کی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں شمولیت کی تفصیلات

News Image
مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈِٹ کو دنیا کے معروف اسٹاک انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس کمپنی کے اسٹاک میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔
معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈِٹ (Reddit) نے مالیاتی دنیا میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے اور اہم ترین اسٹاک انڈیکس 'ایس اینڈ پی 500' (S&P 500) میں جگہ بنالی ہے۔ انڈیکس فراہم کرنے والے ادارے کی جانب سے نیویارک میں جاری کردہ ایک باضابطہ پریس ریلیز کے مطابق یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جس کے بعد اب یہ پلیٹ فارم کمیونیکیشن سروسز کے شعبے کے تحت اس معتبر انڈیکس کا حصہ بن گیا ہے۔ ریڈِٹ نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں 'RDDT' کے نام سے ٹریڈ کرتا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس کے دوران ریڈِٹ کے اسٹاک کی قدر میں تقریباً 31 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے لیے یہ شمولیت کچھ حیران کن ضرور ہے کیونکہ عام طور پر ایس اینڈ پی 500 میں شمولیت کے لیے مضبوط اور مستحکم مالیاتی کارکردگی کو بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، کمپنی کی روز افزوں مقبولیت، اشتہارات سے حاصل ہونے والے بڑھتے ہوئے فوائد اور ڈیجیٹل مارکیٹ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے انڈیکس کمیٹی کو اسے اس فہرست میں شامل کرنے پر آمادہ کیا۔ اس تبدیلی کے نفاذ کے بعد اب وال اسٹریٹ اور سرمایہ کاروں کی توجہ ریڈِٹ کی آئندہ کی مالیاتی کارکردگی پر مرکوز ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس اینڈ پی 500 کا حصہ بننے کے بعد ریڈِٹ کے شیئرز میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بہت سے میچوئل فنڈز اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) براہ راست اس انڈیکس کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس سے کمپنی کو اپنی مارکیٹ ویلیو بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں بڑی مدد ملنے کی توقع ہے۔ مالیاتی حلقوں میں اس فیصلے کے دور رس نتائج پر بھی بحث جاری ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے شعبے میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ریڈِٹ کی اس انڈیکس میں شمولیت کے دو دن بعد ایک اور تبدیلی بھی عمل میں آئی ہے جس میں سن کمیونٹیز (Sun Communities) کو بھی اس سے متعلقہ امور میں شامل کیا گیا ہے۔ کاروباری تجزیہ کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ قدم ریڈِٹ کے شیئرز کو مندی کے رجحان سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔