Technology
ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور انسانی عنصر کا فقدان
موجودہ دور میں سوشل میڈیا فیڈز پر برانڈز کی بھر مار ہے لیکن ان کا مواد روبوٹک اور یکساں محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں انسانی عناصر اور تخلیقی صلاحیتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آج کے دور میں جب کوئی شخص اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اسکرول کرتا ہے تو ایک عجیب سی یکسانیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختلف برانڈز اب بالکل ایک جیسے انداز میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بصری مواد انتہائی پالش اور چمکدار ہوتے ہیں جبکہ کیپشنز کو سرچ انجن آپٹیمائزیشن کے اصولوں کے تحت بالکل نپا تلا بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس تمام تر پیشہ ورانہ مہارت کے باوجود، اس میں وہ روح، گرم جوشی اور انسانی عنصر غائب ہو چکا ہے جو کبھی گاہکوں اور برانڈز کے درمیان ایک حقیقی جذباتی رشتہ قائم کرتا تھا۔ مارکیٹنگ کی یہ مشینی نوعیت اب صارفین کو بور کرنے لگی ہے کیونکہ سب کچھ الگورتھم کیمیا گری کے تحت چل رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ برانڈز نے ڈیجیٹل دنیا میں اپنی منفرد آواز کھو دی ہے۔ ہر ادارہ ایک ہی طرح کے رجحانات، الفاظ اور اشتہاری طریقوں کی تقلید کر رہا ہے جس کی وجہ سے اصلیت پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ صارفین اب ان کمرشل پیغامات کو نظر انداز کرنے لگے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب کسی انسان کا حقیقی جذبہ نہیں بلکہ محض ایک مارکیٹنگ کی حکمت عملی ہے۔ برانڈز کی یہ بے روحی طویل مدت میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ صارف ہمیشہ ایسی کمپنیوں سے جڑنا پسند کرتا ہے جو انسانی سطح پر بات چیت کریں۔
اس مسئلے کا حل اس بات میں پوشیدہ ہے کہ مارکیٹرز دوبارہ سے تخلیقی آزادی اور بے باک سچائی کی طرف لوٹیں۔ ڈیٹا اور الگورتھم کی اپنی اہمیت ہے، لیکن یہ کسی انسانی کہانی یا مخلصانہ پیغام کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ جب تک مارکیٹنگ کی صنعت میں تخلیق کاروں کو خطرے مول لینے اور روایتی سانچوں سے باہر نکل کر سوچنے کی آزادی نہیں دی جائے گی، اس وقت تک ڈیجیٹل فیڈز پر یہی بے جان پن طاری رہے گا۔ برانڈز کو چاہیے کہ وہ اپنی مارکیٹنگ کی مہمات میں پرانے اور روایتی کارپوریٹ لہجے کو چھوڑ کر ایک حقیقی اور دوستانہ انداز اپنائیں تاکہ لوگ خود کو اس سے جڑا ہوا محسوس کریں۔