LIVE
Loading Breaking News...

ٹی بی کے جراثیم میں منشیات کی مدافعت کا نیا طریقہ کار دریافت

News Image
سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ تپ دق کے جراثیم میٹابولک تبدیلیوں کے ذریعے ادویات کے خلاف اپنی مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ نئی دریافت ٹی بی کے علاج میں بہتری اور بہتر ادویات کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگی۔
تپ دق یعنی ٹی بی دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات کی وجہ بننے والی متعدی بیماریوں میں سے ایک ہے، اور اس کا علاج اس وقت مزید مشکل ہو جاتا ہے جب جراثیم ادویات کے خلاف مدافعت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس خطرناک بیماری کے خلاف جنگ میں سائنسدانوں نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اس عمل کی وضاحت کی ہے جس کے ذریعے مائیکرو بیکٹیریم ٹیبرکولوسیس ادویات کے اثرات کو ناکارہ بناتا ہے۔ حالیہ تحقیقی مطالعے کے مطابق، میٹابولک ری ماڈلنگ وہ بنیادی طریقہ کار ہے جو ٹی بی کے جراثیم کو دوائیوں کے خلاف زیادہ مضبوط اور مزاحم بناتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جب بیکٹیریا انسانی جسم کے اندر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اپنے میٹابولزم میں تبدیلیاں لاتے ہیں۔ اس انکوڈیڈ میٹابولک ری ماڈلنگ کی وجہ سے ادویات کا وہ اثر نہیں رہتا جو عام حالات میں ہونا چاہیے۔ اس عمل کو سمجھنا اس لیے بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے نہ صرف جراثیم کی جینیاتی بنیاد کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ طبی ماہرین کو بہتر اور جدید اسکریننگ کے طریقے تیار کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ ٹی بی کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ ادویات کا اثر نہ کرنا ہے، جسے ملٹی ڈرگ ریزسٹنس کہا جاتا ہے۔ اس نئی تحقیق کی مدد سے طبی سائنسدان اب ایسی نئی ادویات اور علاج کے طریقے وضع کرنے کے قابل ہو سکیں گے جو اس میٹابولک عمل کو روک سکیں۔ جب جراثیم کے میٹابولزم کو تبدیل ہونے سے روکا جائے گا تو ادویات دوبارہ سے مؤثر ثابت ہوں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر ٹی بی کے خاتمے کے لیے اس قسم کی بنیادی تحقیق بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ان طبی پیش رفتوں کی بدولت ڈاکٹروں کو ٹی بی کے خلاف زیادہ موثر ہتھیار مل جائیں گے، جس سے لاکھوں مریضوں کی جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔