Health
اینتھراکس کے خلاف نئی انسانی اینٹی باڈی دریافت
سائنسدانوں نے ایک ایسے انسانی اینٹی باڈی کی دریافت کا اعلان کیا ہے جو خطرناک اینتھراکس کے زہر کو انتہائی مؤثر طریقے سے بے اثر کر سکتا ہے۔ یہ نئی تحقیق مستقبل میں اینتھراکس کے علاج کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کے تحت محققین نے ایک ایسی مکمل انسانی اینٹی باڈی متعارف کرائی ہے جو اینتھراکس کے زہر کو انتہائی طاقتور طریقے سے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اینتھراکس اب بھی دنیا بھر میں ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم اس کے خلاف متبادل طریقہ ہائے علاج اور اینٹی باڈی کے غیر روایتی طریقوں پر تحقیق اب تک محدود تھی۔ تازہ ترین مطالعے میں محققین نے ’22 ایف ون‘ (22F1) نامی مکمل انسانی اینٹی باڈی کا انکشاف کیا ہے جو اینتھراکس کے ٹاکسن کو انتہائی مؤثر انداز میں بے اثر کرتی ہے۔ روایتی اینٹی باڈیز کے برعکس، یہ نئی دریافت بیماری کے خلاف مدافعت کے ایک منفرد طریقہ کار کو بروئے کار لاتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس خطرناک بیماری کے خلاف مستقبل کے علاج کے لیے دروازے کھول سکتی ہے۔ اینتھراکس کے جراثیم بیلسیس اینتھراسس (Bacillus anthracis) کی وجہ سے پھیلنے والا یہ زہر انسانی جان کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نئی اینٹی باڈی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زہر کے خلیات کو آپس میں ملنے اور نقصان پہنچانے سے روکتی ہے۔ طبی سائنس کے حلقوں میں اس دریافت کو بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ مستقبل میں وبا یا کسی بھی حملے کی صورت میں انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ محققین اب اس اینٹی باڈی کو کلینیکل ٹرائلز کے اگلے مراحل میں لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس کی تاثیر اور سکیورٹی کو مزید بہتر طور پر جانچا جا سکے۔