Health
البینڈازول کی افادیت میں اضافہ: ليوکوکوائٹ ایکسٹریکٹ سے متعلق نئی طبی تحقیق
سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی ليوکوکوائٹ ایکسٹریکٹ اور البینڈازول کا مشترکہ استعمال خطرناک جراثیم کے خلاف علاج کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ یہ طریقہ کار پرجیوی مائکرو آسٹ آر این اے اور مدافعتی نظام کو دبانے والے خلیات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
الویولر ایکینوکوکوسس (Alveolar echinococcosis) ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا پرجیوی بیماری ہے جو کہ ایکینوکوکس ملٹی لوکولاریس (Echinococcus multilocularis) نامی فلیٹ ورم یا فیتہ کرم کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کے علاج کے لیے روایتی طور پر طویل عرصے سے البینڈازول (albendazole) نامی دوا کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ پرجیوی کی نشوونما کو روکنے میں مددگار تو ہوتی ہے لیکن اس کی اکیلے علاج کی تاثیر بعض اوقات محدود رہتی ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات میں اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ماہرین نے انسانی ليوکوکوائٹ ایکسٹریکٹ کے استعمال سے اس دوا کی افادیت کو کئی گنا بڑھانے کا دعویٰ کیا ہے۔
محققین کے مطابق، جب البینڈازول کے ساتھ انسانی ليوکوکوائٹ ایکسٹریکٹ کا استعمال کیا گیا تو اس نے چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں حیرت انگیز نتائج دیے۔ اس مشترکہ تھراپی نے پرجیوی سے جڑے مائکرو آسٹ آر این اے (microRNAs) کی سطح کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ، یہ طریقہ کار جسم میں موجود ایسے مائیلوئڈ اور لیمفائڈ مدافعتی خلیات (myeloid and lymphoid immunosuppressive cells) کو بھی کم کرتا ہے جو عام طور پر جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور بیماری کے خلاف لڑنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی تحقیق مستقبل میں اس جان لیوا مرض کے خلاف زیادہ مؤثر اور جامع علاج کی راہیں ہموار کر سکتی ہے۔ الویولر ایکینوکوکوسس کے علاج میں آنے والی یہ دشواریاں کہ دوا صرف پرجیوی کی افزائش کو روکتی ہے اور اسے مکمل ختم نہیں کرتی، اس نئے امتزاجی علاج سے کسی حد تک حل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، انسانوں پر اس کے کلینیکل ٹرائلز اور مزید طبی مراحل سے گزرنے کے بعد ہی اس حتمی علاج کو بڑے پیمانے پر عام کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا، لیکن ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔