Technology
ڈیپ لرننگ اور ایم سکس اے پیشگوئی میں نئی پیشرفت
سائنسدانوں نے آر این اے کی کیمیائی تبدیلیوں کی پیشگوئی کے لیے ایک نیا ساخت سے آگاہ ڈیپ لرننگ ماڈل تیار کیا ہے۔ اس تحقیق سے مختلف خلیاتی اقسام میں آر این اے کی ساختی خصوصیات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔
آر این اے کی کیمیائی تبدیلیاں جینیاتی ضابطے کے علاوہ خلیاتی افعال کو کنٹرول کرنے میں ایک انتہائی اہم تہوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں میں سے 'این سکس میتھائل ایڈینوسین' یعنی ایم سکس اے (m6A) یوکاریوٹس کے میسنجر آر این اے میں پائی جانے والی سب سے اہم اور وافر مقدار میں موجود اندرونی تبدیلی ہے، جو خلیات کے اندر حیاتیاتی عمل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ حال ہی میں محققین نے ایک جدید اور ساخت سے آگاہ ڈیپ لرننگ ماڈل متعارف کرایا ہے جو اس عمل کی پیشگوئی کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔
اس نئی تحقیق سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد ملی ہے کہ کس طرح آر این اے کی ساخت اور اس میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں خلیات کی مخصوص اقسام کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ روایتی طریقوں میں اس نوعیت کی درستگی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ کے اس نئے امتزاج نے جینیاتی اور بائیو کیمیکل تحقیق میں نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ ماڈل آر این اے کے اندر موجود ساختی دستخطوں کو زیادہ گہرائی سے پہچان سکتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب محققین خلیاتی سطح پر ہونے والے پیچیدہ تعاملات کا مشاہدہ زیادہ درستگی کے ساتھ کر سکیں گے۔ اس سے مستقبل میں بیماریوں کے علاج اور بائیو ٹیکنالوجی کی صنعت میں بھی نئی راہیں کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ آر این اے کی ان ساختوں کو سمجھنے سے مالیکیولر بائیولوجی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں، جو علاج معالجے کے نئے طریقوں کی بنیاد بنیں گی۔