LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک میں ذہنی صحت کی مدد اور متقاطع شناختوں کا اثر

News Image
ایک نئے مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ نیویارک سٹی کے بالغوں میں ذہنی صحت کے لیے مدد مانگنے کے رجحانات پر نسلی، صنفی، معاشی اور تارکین وطن کی خصوصیات گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق مختلف شناختوں کے حامل افراد رسمی اور غیر رسمی معاونت کے حصول میں الگ الگ سماجی اور ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔
نیویارک سٹی میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور مدد کے حصول کے حوالے سے ایک جامع طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ متقاطع شناختیں یعنی نسل، جنس، سماجی و اقتصادی حیثیت اور تارکین وطن سے وابستہ خصوصیات کس طرح افراد کو ذہنی دباؤ، اعصابی کمزوری یا جذباتی مسائل کے لیے مدد مانگنے پر مجبور یا مائل کرتی ہیں۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد نیویارک جیسے کثیر الثقافتی شہر میں رہنے والے بالغ افراد کے رویوں کا تجزیہ کرنا تھا۔ محققین کے مطابق، معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد جب جذباتی یا ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، تو وہ یکساں طور پر طبی یا غیر طبی مدد تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ بعض شناختوں کے حامل افراد کے لیے خاندانی یا غیر رسمی ذرائع سے مدد حاصل کرنا آسان ہوتا ہے، جبکہ دیگر کو ہسپتالوں یا ماہرین نفسیات جیسے رسمی اداروں تک پہنچنے میں شدید ثقافتی، لسانی یا مالی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مطالعے کے نتائج بتاتے ہیں کہ تارکین وطن کی شناخت اور معاشی پسماندگی اکثر ایسے عوامل ہیں جو ذہنی صحت کے حوالے سے خاموشی اختیار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ شہر کے اندر مختلف کمیونٹیز کے اندر ذہنی صحت کے مسائل کو دیکھنے کا نظریہ مختلف ہے، جس کی وجہ سے امداد کے حصول کے طریقے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ ذہنی صحت کی پالیسیوں کو بناتے وقت ان سماجی و اقتصادی تفاوت کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں ماہرین صحت نے سفارش کی ہے کہ نیویارک سٹی میں ذہنی صحت کی خدمات کو تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر قابل رسائی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایسی آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت ہے جو ہر پس منظر کے فرد کو بلا جھجھک اپنی ذہنی صحت کے لیے باقاعدہ یا غیر رسمی مدد مانگنے کی ترغیب دیں، تاکہ کسی بھی شناخت سے جڑے افراد اکیلے پن یا عدم توجہی کا شکار نہ ہوں۔