LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں یو اے ای کے تیل بردار جہاز پر حملہ، خطے میں کشیدگی

News Image
متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ان کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یو اے ای نے جہاز رانی کے حقوق کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں یو اے ای کی معروف تیل کمپنی کے بحری جہاز کو نقصان پہنچا ہے، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی بڑی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قانون کے تحت جہاز رانی کی آزادی اور حقوق کا مکمل دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یو اے ای اپنی توانائی کی سپلائی لائنوں اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا حق رکھتا ہے۔ اس واقعے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدات پیدا ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے خطے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن سے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل کی لبنان میں کارروائیوں کے پس منظر میں یہ تازہ واقعہ عالمی سطح پر گہری تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے حملے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطے سے دوچار کر سکتے ہیں۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ علاقائی ممالک نے بحری گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے عجلت میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ یو اے ای کی جانب سے اس جارحیت کے خلاف سخت سفارتی اور دفاعی ردعمل ظاہر کیے جانے کا امکان ہے، تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔