LIVE
Loading Breaking News...

وولٹاس اور ایٹم برگ کا نیا جوائنٹ وینچر، اے سی کمپریسرز تیار ہوں گے

News Image
وولٹاس کے بورڈ نے ایٹم برگ انوویشن کے ساتھ اے سی کمپریسرز کی تیاری کے لیے پچاس پچاس فیصد شراکت داری کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے جوائنٹ وینچر کے بورڈ میں وولٹاس کے تین جبکہ ایٹم برگ کے دو ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔
معروف بھارتی کمپنی وولٹاس (Voltas) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعہ کے روز ایک اہم کاروباری فیصلے کے تحت ایٹم برگ انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ (Atomberg Innovation Private Limited) کے ساتھ ایک بائنڈنگ ٹرم شیٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق، یہ اشتراک ایک مساوی جوائنٹ وینچر کی صورت میں ہوگا جس میں دونوں کمپنیاں پچاس پچاس فیصد کی شراکت دار ہوں گی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد جدید اور بہترین معیار کے اے سی کمپریسرز کی تیاری کو فروغ دینا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان یہ اشتراک صنعتی شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا جس سے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ نئے تشکیل پانے والے اس جوائنٹ وینچر کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے ایک پانچ رکنی بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں دونوں اداروں کی نمائندگی ہوگی۔ اس بورڈ میں وولٹاس کی جانب سے تین ڈائریکٹرز نامزد کیے جائیں گے جبکہ ایٹم برگ انوویشن اپنے دو نمائندے بورڈ میں شامل کرے گی۔ اس طرح دونوں کمپنیوں کے پاس فیصلہ سازی کے عمل میں متوازن نمائندگی ہوگی جو اس مشترکہ منصوبے کے طویل مدتی اہداف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ وولٹاس کی مارکیٹ میں طویل تاریخ اور ایٹم برگ کی جدید ٹیکنالوجی و جدت طرازی کی صلاحیتیں اس جوائنٹ وینچر کو انتہائی کامیاب بنا سکتی ہیں۔ ایٹم برگ انوویشن حالیہ برسوں میں اپنی توانائی کی بچت کرنے والی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے، جبکہ وولٹاس پہلے ہی ہوم اپلائنسز اور ایئر کنڈیشنگ کے شعبے میں ایک مستحکم برانڈ ہے۔ ان دونوں کی صلاحیتوں کے ملاپ سے تیار ہونے والے اے سی کمپریسرز نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی معیار پر بھی پورا اترنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ اس معاہدے کے حتمی مراحل طے ہونے کے بعد دونوں کمپنیاں جلد ہی مینوفیکچرنگ پلانٹ کے قیام اور پیداوار کے آغاز کے حوالے سے مزید لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔ اس جوائنٹ وینچر سے نہ صرف دونوں کاروباری اداروں کو مالیاتی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ مارکیٹ میں مسابقت کا ایک نیا دور بھی شروع ہوگا جس سے صارفین کو بہتر اور جدید مصنوعات مناسب داموں دستیاب ہو سکیں گی۔