LIVE
Loading Breaking News...

امریکا کا ڈرونز پر 100 فیصد ٹیرف، یورپی ممالک کے لیے حد 15 فیصد مقرر

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت ایک نئے اعلان پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کے تحت بغیر پائلٹ کے ہوائی نظام اور ان کے پرزہ جات پر درآمدی ٹیرف کو بڑھا کر سو فیصد تک پہنچا دیا گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی سلامتی اور تجارت کو جواز بناتے ہوئے بغیر پائلٹ کے ہوائی نظام (ڈرونز) اور ان کے لازمی پرزہ جات کی درآمد پر نئے اور سخت ٹیکسز کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ پروکلمیشن پر 13 اگست کو دستخط کیے گئے، جس کا مقصد ملکی صنعت کا تحفظ اور تجارتی توازن کو بحال کرنا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت اب غیر ملکی ڈرونز کی امریکی منڈی میں ترسیل پر ایک سو فیصد تک کا بھاری ٹیرف لاگو ہو گا، جو کہ دفاعی اور تجارتی لحاظ سے ایک بہت بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس نئے اقدام کی قانونی بنیاد ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ 1962 کے سیکشن 232 پر رکھی گئی ہے، جو امریکی صدر کو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے درآمدات پر پابندیاں یا ٹیرف بڑھانے کا وسیع اختیار دیتا ہے۔ اس فرمان کا باضابطہ عنوان 'امریکہ میں بغیر پائلٹ کے ہوائی نظام اور اس کے اجزاء کی درآمدات کو ایڈجسٹ کرنا' رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس سخت پالیسی سے ملکی ڈرون مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی انحصار میں کمی آئے گی، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تاہم، اس حکم نامے میں یورپی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے کچھ لچک بھی دکھائی گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے یورپ سے آنے والے ڈرون سسٹمز اور ان کے پرزہ جات کے لیے ٹیرف کی حد کو پندرہ فیصد تک محدود کر دیا ہے۔ اس استثنا کا مقصد اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنا اور ناخوشگوار تجارتی کشیدگی سے بچنا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دو طرفہ پالیسی کے اثرات عالمی منڈی اور ڈرون سپلائی چین پر گہرے مرتب ہوں گے، اور دنیا بھر کی کمپنیاں اب امریکی مارکیٹ کے لیے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوں گی۔