Entertainment
جیمز نیسٹ اور فلم دی ڈیولز ماؤتھ - غاروں کی لائٹنگ کے راز
نامور ہاتھی ورڈ اور ہارر فلموں کے سینماٹوگرافر جیمز نیسٹ نے اپنی نئی فلم کی تیاری اور غاروں کے اندھیرے میں لائٹنگ کے چیلنجز پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اس پراجیکٹ کے دوران درپیش تکنیکی مشکلات اور اپنے منفرد بصری تجربات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
ہالی ووڈ کے معروف اور تجربہ کار سینماٹوگرافر جیمز نیسٹ نے ہارر صنف میں اپنی شاندار صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ مائیک فلانہگن کی مشہور سیریز 'دی ہانٹنگ آف بلائی مینر' اور 'دی مڈنائٹ کلب' کے ساتھ ساتھ 'اینابیل' جیسی کامیاب فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھانے والے جیمز نیسٹ نے حال ہی میں اپنے نئے اور چیلنجنگ پراجیکٹ 'دی ڈیولز ماؤتھ' کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کی یہ نئی فلم اپنی منفرد لوکیشنز اور خوفناک ماحول کی وجہ سے شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
فلم کی شوٹنگ کے دوران سب سے بڑا چیلنج غاروں کے اندرونی حصوں میں مناسب روشنی کا انتظام کرنا تھا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیمز نیسٹ کا کہنا تھا کہ قدرتی طور پر غاروں میں اندھیرا ہوتا ہے اور وہاں کیمرے کے لیے مناسب فریم ترتیب دینا ایک تکنیکی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ غاروں کے اندر حقیقت پسندانہ ماحول کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ناظرین کے لیے خوف کا عنصر پیدا کرنے کے لیے انہیں خصوصی لائٹنگ تکنیک کا استعمال کرنا پڑا۔
ڈائریکٹر کے ساتھ قریبی تعاون اور ٹیم کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ پر کام کرنا ان کے کیریئر کے سب سے بڑے تجربات میں سے ایک ہے۔ غاروں کے تنگ راستوں اور ناموافق حالات میں بھاری بھرکم کیمرہ ایکوپمنٹ کو سنبھالنا اور ہر منظر میں روشنی کا توازن برقرار رکھنا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ تاہم، تکنیکی مہارت اور جدید آلات کی مدد سے وہ ایک ایسا بصری اثر پیدا کرنے میں کامیاب رہے جو فلم بینوں کو طویل عرصے تک یاد رہے گا۔
فلم 'دی ڈیولز ماؤتھ' کے ذریعے جیمز نیسٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہارر اور سسپنس فلموں میں ماحول سازی کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ شائقین اور فلمی نقاد دونوں ہی اس فلم کی سینماٹوگرافی کی تعریف کر رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم باکس آفس پر بھی شاندار کامیابی حاصل کرے گی جبکہ سینماٹوگرافی کے شعبے میں بھی اسے نمایاں پذیرائی ملے گی۔