LIVE
Loading Breaking News...

جنریشن زی اور ماضی کی دولت مندانہ ثقافت کا تعلق

News Image
نئی نسل جہاں ایک طرف معاشی نابرابری اور ارب پتی افراد کی دولت پر تنقید کرتی ہے، وہیں دوسری طرف ماضی کے اشرافیہ دور کے طرزِ زندگی کو بھرپور انداز میں اپنا رہی ہے۔ اس دلچسپ فکری تضاد نے ماہرینِ ثقافت کو بھی سوچ میں ڈال دیا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل دور کے نوجوان ماضی کے سنہری دور سے فرار حاصل کر رہے ہیں۔
آج کے دور کی نوجوان نسل یعنی جنریشن زی (Gen Z) کو اکثر و بیشتر ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ارب پتی افراد کی دولت، بڑھتے ہوئے معاشی خلا اور سرمائے کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف سخت بیانات اور منشور جاری کرتے ہوئے دیکھا جا सकता ہے۔ یہ نسل روایتی معاشی نظام پر کڑی تنقید کرتی ہے اور دنیا بھر میں اقتصادی انصاف کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔ تاہم، اسی نسل کے بارے میں ایک دلچسپ اور حیرت انگیز حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وہ بیک وقت ماضی کے ان ادوار کی جمالیات اور ثقافت کی طرف تیزی سے راغب ہو رہی ہے جو انتہائی دولت کے ارتکاز اور طبقاتی امتیاز کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ماہرینِ ثقافت اور سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی غیر یقینی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مستقبل کے بارے میں پائے جانے والے شدید تحفظات نے نوجوانوں کو ایک ایسے نفسیاتی فرار کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں وہ ماضی کے پرسکون اور بظاہر مستحکم نظر آنے والے ادوار میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ایسے مواد کی بھرمار ہے جو پچھلی صدی کے وسط یا اس سے بھی پرانے اشرافیہ کے طرزِ زندگی، ان کے لباس، رہن سہن کے طریقوں اور محفلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ نوجوان اس جمالیاتی انداز کو اپنا کر نہ صرف ڈیجیٹل دنیا میں ایک منفرد شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ موجودہ دور کے ذہنی دباؤ سے عارضی نجات بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس رجحان کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا الگورتھمز اس قسم کے مواد کو بہت زیادہ فروغ دیتے ہیں جو دیکھنے میں پرتعیش، دلفریب اور شاندار محسوس ہوتا ہے۔ نتیجتاً، جو نوجوان حقیقی زندگی میں معاشی نابرابری اور نوکریوں کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہیں، وہ اس ورچوئل دنیا میں ایک خوبصورت منظر نامے کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک قسم کا 'سنہری پنجرہ' ہے جہاں نوجوان اپنی حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لیے اسی نظام کی جمالیات کا سہارا لے رہے ہیں جس کے خلاف وہ نظریاتی سطح پر نبرد آزما ہیں۔ بہر حال، یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انسانی نفسیات کتنی پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایک طرف جہاں نوجوان دنیا کو بدلنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ ماضی کے پرتعیش تصورات کے سحر میں بھی گرفتار ہیں۔ یہ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دور کا انسان بیک وقت کئی مختلف اور متضاد حقیقتوں کے ساتھ جینے کا عادی ہو رہا ہے، اور آنے والے وقتوں میں ثقافتی رجحانات مزید عجیب و غریب موڑ لے سکتے ہیں۔