LIVE
Loading Breaking News...

ایپل کا چین میں علی بابا کے ساتھ مل کر نیا کسٹم AI ماڈل بنانے کا فیصلہ

News Image
ایپل نے چین میں اپنے صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت کی جدید خصوصیات لانے کی غرض سے علی بابا کے تعاون سے ایک نیا کسٹم لارج لینگویج ماڈل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد چینی ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرنا اور ایپل انٹیلی جنس کو مقامی مارکیٹ میں مؤثر انداز میں متعارف کرانا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل نے چین میں اپنی مصنوعی ذہانت (AI) کی حکمت عملی کے تحت ایک نیا اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایپل نے چین میں اپنے صارفین کے لیے جدید ترین فیچرز متعارف کرانے کی غرض سے ایک بالکل نیا کسٹم لارج لینگویج ماڈل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کام میں اسے معروف چینی ادارے علی بابا کی معاونت حاصل ہوگی۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں چینی مارکیٹ کے سخت ضابطہ اخلاق اور ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق اپنی مصنوعات ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس تعاون سے ایپل کو چین میں اپنے صارفین کو ایپل انٹیلی جنس کی سہولیات فراہم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ چین کے اندر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو حکومتی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوتی ہے، اور مقامی شراکت داری کے بغیر ملکی قوانین کی تعمیل کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ علی بابا کے ساتھ اس شراکت داری کے نتیجے میں ایپل مقامی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ جائے گا جو سیکیورٹی اور کارکردگی کے تمام پیمرون پر پورا اترتا ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایپل کا یہ فیصلہ چینی مارکیٹ میں اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا، جہاں اسے مقامی اسمارٹ فون بنانے والوں اور طاقتور AI ماڈلز کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اگرچہ ایپل کی جانب سے اس حوالے سے ابھی حتمی تفصیلات کا باضابطہ اعلان باقی ہے، تاہم اس کسٹم ماڈل کی تیاری کو چینی مارکیٹ میں ایپل کے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایپل اور علی بابا کا یہ مشترکہ اقدام چینی صارفین کے لیے کس حد تک کارآمد ثابت ہوتا ہے اور آیا چینی ریگولیٹرز اس نئے کسٹم ماڈل کو کتनी جلدی منظوری دیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس خبر کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے اشتراک کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔