LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی آئی ٹی سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کا کردار اور آمدنی

News Image
بھارتی آئی ٹی سروسز فرمز نے مصنوعی ذہانت کو کمرشل آمدنی کے طور پر ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے دباؤ کے باوجود یہ ٹیکنالوجی فی الحال تیزی سے ترقی کا واحد محرک نہیں بن سکی ہے۔
بھارتی آئی ٹی سروسز فرمز نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے کاروبار کو باقاعدہ طور پر معاشی پیمانوں میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی طرف سے مسلسل دباؤ کے بعد کمپنیاں یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ٹیکنالوجی پر ہونے والی سرمایہ کاری کس حد تک تجارتی آمدنی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں بھارتی ٹیکنالوجی سیکٹر میں مصنوعی ذہانت اب محض ایک مبہم تصور نہیں بلکہ ایک قابلِ پیمائش معاشی عنصر بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کے پراجیکٹس سے باقاعدہ ریونیو جنریٹ کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی تاحال کمپنیوں کے مجموعی کاروبار کو تیزی سے آگے بڑھانے والا بنیادی محرک یعنی گروتھ انجن نہیں بن سکی ہے۔ روایتی آؤٹ سورسنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے مقابلے میں اے آئی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حجم ابھی نسبتاً کم ہے، تاہم اس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کی جانب سے کمپنیوں پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی کارکردگی اور منافع کے حوالے سے زیادہ شفافیت لائیں۔ اس پس منظر میں بھارتی آئی ٹی اداروں کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ کلائنٹس کو ایسی جدید خدمات فراہم کریں جو حقیقی معنوں میں ان کے کاروباری مسائل کو حل کریں اور حتمی بیلنس شیٹ پر مثبت اثرات مرتب کریں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا بھارتی آئی ٹی فرمز مصنوعی ذہانت کو محض ایک سائیڈ بزنس سے نکال کر بنیادی آمدنی اور ترقی کا بڑا ذریعہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس وقت صنعت کے اندرونی حلقوں میں اس بات پر شدید بحث جاری ہے کہ اے آئی کے اس دور میں مارکیٹ کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مزید کس قسم کی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔