LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی مالی کٹوتی کی تجویز پر ردعمل

News Image
خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی منسٹری آف فنانس کی جانب سے صوبائی فنڈز سے 6.4 ارب روپے کی کٹوتی کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ صوبائی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ کٹوتی آئینی اور قانونی تقاضوں کے خلاف ہے اور اس کے لیے صوبائی کابینہ کی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے مالیاتی حصص سے 6.4 ارب روپے کی کٹوتی کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) پشاور کے دفتر کو جولائی 2026 کے مہینے کے لیے اس مجوزہ کٹوتی کے حوالے سے خط لکھا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ رقم مالی سال 2026-27 کے اکاؤنٹس میں ایڈجسٹ کی جانی ہے۔ تاہم، صوبائی محکمہ خزانہ نے اس معاملے پر فوری طور پر اکاؤنٹنٹ جنرل کے پی کو خط لکھ کر واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے اس کٹوتی کی کوئی منظوری نہیں دی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) دستخط کی گئی ہے۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 164 صوبے کے آئینی طور پر قابلِ ادائیگی فنڈز میں یکطرفہ کٹوتی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ صوبائی حکام نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی قسم کی مالیاتی کٹوتی کے لیے آئینی یا قانونی بنیاد کا ہونا لازمی ہے اور اسے محض انتظامی احکامات کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ مشیر خزانہ کے پی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی رضامندی اور اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ دوسری جانب، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس معاملے پر تفصیلی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ سے قبل دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا سے بھی اضافی فنڈز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط طے کی گئی تھیں جن میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ضم شدہ اضلاع کا مالیاتی حق شامل تھا۔ وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی حکومت صوبے کے آئینی اور مالیاتی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور وفاق کو یکطرفہ کٹوتی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں پہلے ہی پٹیشن دائر کر رکھی ہے تاکہ صوبے کے واجب الادا فنڈز کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔